ویب ڈیسک : وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت غیرقانونی طور پر کشمیر پر قابض ہے اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، عالمی برادری دیرینہ تنازعات خصوصاً مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا پُرامن حل یقینی بنائے کیونکہ یہ عالمی امن و سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

چین کے شہر شان ڈونگ میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع اجلاس میں پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کی موجودگی میں  مسئلہ کشمیر  کے حوالے سے مؤثر اور دوٹوک انداز میں پاکستان کا موقف پیش کیا۔ خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو عالمی تنازع قرار دے دیا ۔ 

190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ملتوی، نیب کی استدعا منظور

وزیر دفاع نے بھارتی حاضر سروس نیول افسر کلبھوشن یادیو کا بھی ذکر چھیڑا اور کہا کہ وہ پاکستان کی تحویل میں ہے اور اس پر ملکی قوانین کے مطابق احتساب جاری ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں نمایاں ہیں اور ہم ہر قسم کی دہشت گردی کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے بھی حامی ہیں۔

اپنے خطاب کے دوران خواجہ آصف نے پیلگام حملے سمیت ہر دہشت گرد کارروائی کی مذمت کی، کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے، نہ ہی کسی ملک کو اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے اس کو استعمال کرنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او خطے میں امن و استحکام کا ایک اہم ستون ہے اور پاکستان اس کے اصولوں سے غیر متزلزل وابستگی رکھتا ہے۔

’’ٹرمپ کی طرح بے اعتبار حالات ‘‘

وزیردفاع خواجہ آصف نے ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی بحران کے خاتمے پر زور دیا۔ خواجہ آصف نے افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کو خطے کی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ خطرہ ہے، جس سے اجتماعی طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ریاستوں کو چاہیے کہ وہ اس حساس معاملے کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہ کریں۔

اداکارہ نازش جہانگیر کو عدالت نے طلب کرلیا

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: خواجہ آصف نے کے خلاف کے لیے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار