کینیا میں خون خونریز مظاہروں کے دوران 16 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
کینیا میں گزشتہ روز حکومت مخالف مظاہروں کے دوران کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق زیادہ تر اموات پولیس فائرنگ کا نتیجہ ہیں۔
یہ احتجاج ایک مقبول بلاگر کی پولیس کی حراست میں پراسرار موت کے بعد بھڑکا تھا، جبکہ یہ واقعہ 2024 کے ان خونریز مظاہروں کی برسی کے موقع پر پیش آیا جب ٹیکس بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 60 افراد مارے گئے تھے۔
نیروبی میں کشیدہ صورتحالدارالحکومت نیروبی کے مرکزی کاروباری علاقے میں ہزاروں نوجوانوں نے پولیس بربریت اور حکومتی نااہلی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں ربر بلیٹس اور لائیو فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔
کینیاٹا نیشنل اسپتال کے ایک عہدیدار کے مطابق اسپتال میں 107 زخمیوں کو داخل کیا گیا جن میں سے زیادہ تر کو گولی لگی تھی۔
میڈیا پر پابندی اور حکومتی ردعملکمیونیکیشن اتھارٹی آف کینیا نے میڈیا کو احتجاج کی لائیو کوریج روکنے کا حکم دیا۔ صدر ولیم روتو نے تشدد کو روکنے کی دھمکی دی ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مظاہروں میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
عوامی غم و غصہسوشل میڈیا پر نوجوانوں نے احتجاجی تحریک کو سپورٹ کیا اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف میمز شیئر کیں۔
مظاہرے میں شامل ایک شخص سولینا موہاکی کا کہنا تھا کہ ’بس کافی ہو چکا، اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔ ہم نے جو خون بہایا ہے وہ کافی ہے‘۔
معاشی بحران اور سیاسی تنقیدماہرین کا کہنا ہے کہ بے روزگاری اور مہنگائی عوامی غصے کی بڑی وجوہات ہیں۔صدر روتو پر اسراف اور کرپشن کے الزامات لگائے گئے ہیں، جبکہ اپوزیشن کو بھی کمزور موقف کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
صورتحال کے پیش نظر خدشات ہیں کہ اگر حکومت نوجوانوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دیتی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
سٹی 42: بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک ہوئے ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے مستونگ، نوشکی، ژوب، خضدار اور کیچ میں آپریشنز کیے گئے ۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 17 دہشتگرد مارے گئے،
ہلاک دہشتگردوں کا تعلق فتنہ الہندوستان سے تھا، دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔ہلاک دہشتگرد متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھے،دہشتگردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بڑی تعداد میں دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔ تیار شدہ آئی ای ڈیز بھی دہشتگردوں سے برآمد کر لی گئیں۔علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری کییے ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
آئی ایس پی آر کے مطابق عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی،ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔