WE News:
2026-06-03@06:15:58 GMT

کینیا میں خون خونریز مظاہروں کے دوران 16 افراد ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

کینیا میں خون خونریز مظاہروں کے دوران 16 افراد ہلاک

کینیا میں گزشتہ روز حکومت مخالف مظاہروں کے دوران کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق زیادہ تر اموات پولیس فائرنگ کا نتیجہ ہیں۔

یہ احتجاج ایک مقبول بلاگر کی پولیس کی حراست میں پراسرار موت کے بعد بھڑکا تھا، جبکہ یہ واقعہ 2024 کے ان خونریز مظاہروں کی برسی کے موقع پر پیش آیا جب ٹیکس بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 60 افراد مارے گئے تھے۔

نیروبی میں کشیدہ صورتحال

دارالحکومت نیروبی کے مرکزی کاروباری علاقے میں ہزاروں نوجوانوں نے پولیس بربریت اور حکومتی نااہلی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں ربر بلیٹس اور لائیو فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

کینیاٹا نیشنل اسپتال کے ایک عہدیدار کے مطابق اسپتال میں 107 زخمیوں کو داخل کیا گیا جن میں سے زیادہ تر کو گولی لگی تھی۔

میڈیا پر پابندی اور حکومتی ردعمل

کمیونیکیشن اتھارٹی آف کینیا نے میڈیا کو احتجاج کی لائیو کوریج روکنے کا حکم دیا۔ صدر ولیم روتو نے تشدد کو روکنے کی دھمکی دی ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مظاہروں میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

عوامی غم و غصہ

سوشل میڈیا پر نوجوانوں نے احتجاجی تحریک کو سپورٹ کیا اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف میمز شیئر کیں۔

مظاہرے میں شامل ایک شخص سولینا موہاکی کا کہنا تھا کہ ’بس کافی ہو چکا، اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔ ہم نے جو خون بہایا ہے وہ کافی ہے‘۔

معاشی بحران اور سیاسی تنقید

ماہرین کا کہنا ہے کہ بے روزگاری اور مہنگائی عوامی غصے کی بڑی وجوہات ہیں۔صدر روتو پر اسراف اور کرپشن کے الزامات لگائے گئے ہیں، جبکہ اپوزیشن کو بھی کمزور موقف کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

صورتحال کے پیش نظر خدشات ہیں کہ اگر حکومت نوجوانوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دیتی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے خلاف

پڑھیں:

مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد

مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔

پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں