گلگت بلتستان حکومت نے سرکاری ملازمین کے احتجاج پر سختی سے پابندی عائد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف معطلی سمیت سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات عوامی نظم اور انتظامی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کو صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج، مظاہروں یا ہڑتال میں حصہ لینے پر سختی سے پابندی عائد کر دی ہے۔سروسز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ تازہ سرکلر کے مطابق مجاز اتھارٹی نے سرکاری ملازمین کی جانب سے حکومت مخالف سرگرمیوں میں شمولیت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سرکولر میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 1964ء کے تحت ایسی سرگرمیوں میں شرکت سنگین انضباطی خلاف ورزی تصور ہوگی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف معطلی سمیت سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات عوامی نظم اور انتظامی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ تمام ایڈمنسٹریٹو سیکرٹریز، محکمانہ سربراہان اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ ان کے ماتحت عملہ کسی بھی قسم کی حکومت مخالف سرگرمی میں ملوث نہ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔