استنبول ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 اگست 2025ء ) ترکیہ میں 6.1 شدت کا زلزلہ آیا ہے، زلزلے کے جھٹکے متعدد صوبوں میں محسوس کیے گئے عالمی میڈیا کے مطابق ترکیہ کا صوبے بالیق اسیر 6.1 شدت کے زلزلے سے لرز اٹھا، زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، زلزلے کے بعد 4.6 اور 4.1 شدت کے آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔

(جاری ہے)

ترک وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز ضلع سیندیرگی تھا اور زلزلے کے جھٹکے استنبول سمیت قریبی صوبوں میں بھی محسوس کیے گئے، ریسکیو ادارے آفاد اور دیگر متعلقہ محکموں نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں سروے شروع کر دیا تاکہ ممکنہ نقصان کا جائزہ لیا جاسکے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے، صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام 7 بج کر 53 منٹ پر ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے قریب واقع بالیق اسیر صوبے میں آیا تاہم متاثرہ صوبوں میں سے ابتدائی طور پر کسی بھی جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔
.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے محسوس کیے گئے زلزلے کے

پڑھیں:

طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت

قابض افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان کے مختلف صوبوں میں آزادی پسند تحریکیں زور پکڑ گئیں. 

بدخشان میں چندماہ میں دوسرےضلعی گورنرکی ہٹ دھرمی پرمبنی برطرفی نےطالبان کےاندرونی خلفشارکوآشکارکردیا۔

افغان میڈیا کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف نئے مسلح گروہ سپاہیان میہن نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی پرقبضہ کرکےاپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا

یہ گروہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنےوالےافراد پرمشتمل ہے جن میں سابق سیکیورٹی اہلکاراورمقامی باشندےشامل ہیں۔

ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ  کے مطابق طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے،بدخشان میں ان کےحامیوں اورطالبان قیادت کےدرمیان کشیدگی برقرارہے۔

بدخشان میں اندرونی کشیدگی بھی عروج پر،ضلعی گورنرقاری مطیع الرحمان کوتقرری کےایک ہفتےبعدہی عہدے سےہٹا دیا گیا، طالبان مخالف گروہوں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اورافغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں میں سرگرم ہیں۔

افغان مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نےایکس اکاونٹ پرمزاحمتی فورسزکی نئی ویڈیواپ لوڈکردی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کےایکس پراپ لوڈ ویڈیومیں طالبان مخالف فورسزکواہم علاقےمیں گشت کرتےہوئےدیکھاجاسکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت