بلوچستان کے مختلف اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے، ریکٹر اسکیل پر شدت 5 ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف اضلاع میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب زلزلے کے جھٹکوں سے خوف و ہراس پھیل گیا۔
زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ گھروں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلی جگہوں پر نکل آئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زمین لرزنے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.
زلزلہ رات 2 بج کر 45 منٹ پر محسوس کیا گیا، جس کے جھٹکے زیارت، ہرنائی، زردالو، کھوسٹ، شاہرگ، مسلم باغ، خانوزئی، کان مہترزئی، رود ملازئی اور سرخاب سمیت متعدد علاقوں میں محسوس کیے گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق خوش قسمتی سے اس زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم متاثرہ علاقوں میں لوگوں میں خوف کی کیفیت دیکھی گئی ۔
دریں اثنا کوئٹہ سمیت بعض قریبی علاقوں میں بھی ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے عوام میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔