سٹی42: لاہور کو سموگ فری بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک پولیس کی جانب سے دھواں چھوڑتی اور ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے۔

حالیہ کارروائیوں کے دوران 16 دھواں چھوڑتی گاڑیوں کو بند کر دیا گیا، جبکہ 20 گاڑیوں کو چالان کیا گیا اور مجموعی طور پر 2 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ انسدادِ سموگ مہم کے تحت انسپکشن ٹیمیں فیلڈ میں متحرک ہیں اور گاڑیوں کی فٹنس چیک کی جا رہی ہے۔

مڈل سکولوں میں ایس ایس ٹی اساتذہ کو ہیڈز تعینات نہ کرنے کا فیصلہ

ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا نے کہا ہے کہ فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو ہرگز سڑک پر نہ لایا جائے۔ ایسی گاڑیوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سموگ کے خلاف اس مہم میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔ شہری دھواں چھوڑتی گاڑیوں کی شکایت فوری طور پر ہیلپ لائن 1071 پر یا گرین پنجاب ایپ کے ذریعے درج کروائیں تاکہ فوری کارروائی کی جا سکے۔

بھارت کی شکایت، پاکستانی کرکٹرز آج میچ ریفری کے سامنے پیش ہوں گے

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ لاہور کو سموگ فری بنانا صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ فریضہ ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے شہریوں کا تعاون ناگزیر ہے۔
 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 کے خلاف

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی