Express News:
2026-07-24@03:00:11 GMT

2022ء کے بعد کی پالیسیاں حالات خراب ہونے کی وجہ ہیں، پی ٹی آئی

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

پشاور:

پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ 2022ء کے بعد کی پالیسیاں حالات خراب ہونے کی وجہ ہیں۔

صوبائی دارالحکومت میں جلسے کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے  سلمان اکرم راجا، اسد قیصر اور جنید اکبر جلسہ گاہ پہنچے۔ اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی کال پر کل پشاور میں جلسہ ہوگا۔ ہم ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تیراہ کے واقعہ پر عمران خان افسردہ ہیں۔ 2022ء  کے بعد کی پالیسیوں کی وجہ سے حالات خراب ہورہے ہیں۔ دہشتگردوں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ کل کا جلسہ بربریت کے خلاف احتجاج ہوگا۔  ہم صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے تحت  جاری کیے گئے نوٹسز کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ محکوم ہے۔ تحریک انصاف کا بنیادی مقصد آئین و قانون کی حکومت ہے۔

پریس کانفرنس  میں اسد قیصر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ  کل کا جلسہ عمران خان کی رہائی کے لیے ہے ۔ ہم امن کی بات کرتے ہیں۔ جب روس آیا، یہاں جنگ شروع ہوئی۔ اس صوبے کی معیشت کو نقصان ہوا۔ کلاشنکوف کلچر بڑھا ۔

انہوں نے کہا کہ 21 آپریشن ہوئے، کیا امن قائم ہوا؟۔ افغانستان کو پھر نئی جنگ میں دھکیلا جارہا ہے۔ اگر نئی جنگ ہوتی ہے قوم اس کا حصہ نہیں ہوگی۔ فیلڈ مارشل اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں کیا ہوا، ابھی باتیں سامنے نہیں آئیں۔ نواز لیگ 10 سیٹیں جیت جائیں ہم اپنی شکست تسلیم کرلیں گے۔

پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کا کہنا تھا کہ ہمیں پنجاب میں فسطائیت کا سامنا ہے، ہم پنجاب میں جلسہ کرنا چاہتے ہیں۔ کل کا جلسہ ثابت کرے گا قوم ہمارے ساتھ ہے۔ حاکمیت عوام کے ووٹ سے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی