بانی کی رہائی اولین ترجیح، ملاقات کیلیے ہر قانونی راستہ اپنائیں گے، وزیراعلیٰ کے پی کے
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: نومنتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ( کے پی کے ) سہیل آفریدی کاکہنا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان ہے اور اس کے بعد باقی چیزیں آتی ہیں، بانی تحریک انصاف کی رہائی کے لیے بطور وزیر اعلیٰ پہلے ہی دن سے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ قائداعظم بانی پاکستان ہیں اور ان کی تعلیمات ہمیں یہی سکھاتی ہیں کہ سب سے مقدم پاکستان ہے، کل خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق اور پنجاب حکومت کو خط لکھا تھا کہ وزیراعلیٰ کے پی اپنے لیڈر سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے فون کر کے مبارکباد دی، جس پر میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا ساڑھے چار کروڑ عوام کا صوبہ ہے، ہمارے سیاسی اور ذاتی اختلافات میں عوام کو نقصان نہیں ہونا چاہیے، میں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ مجھے اپنے لیڈر سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جس پر وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس بارے میں معلوم کر کے آگاہ کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم اپنے لیڈر سے ملاقات کے لیے ہر آئینی و قانونی راستہ اپنائیں گے، پی ٹی آئی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ احتجاجی سیاست کرتی ہے لیکن جب عدالتوں سے انصاف نہ ملے تو پرامن احتجاج ہمارا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ پرامن احتجاج کیا ہے اور یہ آپشن اب بھی کھلا ہوا ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ اگر ایڈوائزری کونسل بنانے کی ضرورت ہوئی تو وہ خود بنائیں گے کیونکہ وہ وزیراعلیٰ ہیں، صوبائی کابینہ کے حوالے سے بانی تحریک انصاف سے مشاورت کی جائے گی اور میں اپنی تجاویز بھی پیش کروں گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی نے کہا کہ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔