اسلام آباد سمپوزیم 2025 میں مکالمہ، وقار اور اصولی سفارت کاری پر زور
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی شمال اور جنوب کے درمیان توازن پیدا کرنے کے لیے مکالمے، وقار اور اصولی سفارت کاری کے ذریعے رابطے کو فروغ دیتا رہے گا۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کے زیراہتمام منعقدہ اسلام آباد سمپوزیم 2025 کی اختتامی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ساحر شمشاد مرزا نے مقررین اور پینلسٹ حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے قیمتی خیالات کو سراہا، انہوں نے بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا کہنا تھا کہ دنیا کو تصادم کے بجائے تعاون کی راہ اپنانا ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان باہمی احترام اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر بقائے باہمی کے وژن پر گامزن ہے۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطین اور جموں و کشمیر جیسے تنازعات کے منصفانہ اور پرامن حل کی حمایت جاری رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، جو تہذیبوں اور خطوں کے سنگم پر واقع ہے، ہمیشہ تحمل، تعمیری روابط اور انصاف، برابری و باہمی احترام پر مبنی متوازن عالمی نظام کے قیام کے لیے کوشاں رہے گا۔
سمپوزیم میں تعلیمی ماہرین، اعلیٰ سرکاری افسران، غیر ملکی سفارت کاروں، کاروباری برادری کے نمائندوں، طلبا اور مختلف جامعات کے اساتذہ نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد پبلک پالیسی جنرل ساحر شمشاد مرزا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف سفارت کاری سمپوزیم مکالمے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی وقار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد پبلک پالیسی چیئرمین جوائنٹ چیفس ا ف اسٹاف سفارت کاری سمپوزیم مکالمے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کہ پاکستان
پڑھیں:
دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن(bating line colapse) 232 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے لڑکھڑا گئی۔ پاکستان نے 27 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 119 رنز بنا لیے ہیں۔
اس سے قبل لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔
آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔