فوٹو: فائل

گورنر سندھ کامران ٹیسوری ڈمپر حادثے میں جاں بحق ہونے والے کامران خورشید رضوی کے گھر پہنچے اور متاثرہ خاندان کے بچوں کو تعلیمی اخراجات اور پلاٹ دینے کا اعلان کیا۔

اس موقع پر گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ شہر میں ٹریفک حادثات تھمنے کا نام نہیں لے رہے، کامران خورشیدکی دو بچیاں یتیم ہوچکی ہیں، پلاٹ کسی انسانی جان کا معاوضہ نہیں۔

کامران ٹیسوری نے کہا کہ میں لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھنے گیا تھا۔

ڈمپر اور ٹینکر کی ٹکر سے جاں بحق تمام افراد کے لواحقین کو پلاٹ دیں گے، گورنر سندھ

12 اپریل کو ڈمپر اور ٹینکر تلے کچلے گئے افراد کے لواحقین گورنر ہاؤس آئیں، کامران ٹیسور

انکا کہنا تھا کہ میئر کراچی کو پڑھا لکھا آدمی سمجھتا ہوں، انہون نے بڑی چھوٹی بات کی، کوئی ڈیوٹی دیتے شہید ہوجاتا ہے تو کیا اس کو معاوضہ نہیں دیا جاتا؟ 

گورنر سندھ نے کہا کہ میئر کراچی ان کے ذاتی وکیل ہیں، وہ مرتضیٰ وہاب کو کہیں گے کہ خود اپنے آپ کو ڈی فیمیشن کا نوٹس بھیجیں۔

علاوہ ازیں گورنر سندھ نے میئر کراچی کو موٹر سائیکل پر شہر کا دورہ کرانے کی پیشکش بھی کی۔

گورنر سندھ کا مزید کہنا تھا کہ عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، وہ مظلوموں کےلیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: گورنر سندھ کا

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا