گورنر سندھ کا ٹریفک حادثے میں جاں بحق کامران خورشید کے بچوں کیلئے پلاٹ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
فوٹو: فائل
گورنر سندھ کامران ٹیسوری ڈمپر حادثے میں جاں بحق ہونے والے کامران خورشید رضوی کے گھر پہنچے اور متاثرہ خاندان کے بچوں کو تعلیمی اخراجات اور پلاٹ دینے کا اعلان کیا۔
اس موقع پر گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ شہر میں ٹریفک حادثات تھمنے کا نام نہیں لے رہے، کامران خورشیدکی دو بچیاں یتیم ہوچکی ہیں، پلاٹ کسی انسانی جان کا معاوضہ نہیں۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ میں لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھنے گیا تھا۔
12 اپریل کو ڈمپر اور ٹینکر تلے کچلے گئے افراد کے لواحقین گورنر ہاؤس آئیں، کامران ٹیسور
انکا کہنا تھا کہ میئر کراچی کو پڑھا لکھا آدمی سمجھتا ہوں، انہون نے بڑی چھوٹی بات کی، کوئی ڈیوٹی دیتے شہید ہوجاتا ہے تو کیا اس کو معاوضہ نہیں دیا جاتا؟
گورنر سندھ نے کہا کہ میئر کراچی ان کے ذاتی وکیل ہیں، وہ مرتضیٰ وہاب کو کہیں گے کہ خود اپنے آپ کو ڈی فیمیشن کا نوٹس بھیجیں۔
علاوہ ازیں گورنر سندھ نے میئر کراچی کو موٹر سائیکل پر شہر کا دورہ کرانے کی پیشکش بھی کی۔
گورنر سندھ کا مزید کہنا تھا کہ عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، وہ مظلوموں کےلیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گورنر سندھ کا
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔