پی ٹی اے نے مبینہ ڈیٹا لیک کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے صارفین کے ذاتی ڈیٹا لیک سے متعلق میڈیا رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق صارفین کا ذاتی ڈیٹا اتھارٹی کے پاس موجود نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے پی ٹی اے مینیج کرتا ہے، بلکہ یہ معلومات صرف لائسنس یافتہ آپریٹرز کے پاس ہوتی ہیں۔
پی ٹی اے نے وضاحت کی کہ منظر عام پر آنے والا مواد بظاہر مختلف ذرائع سے جمع کیا گیا ہے۔ اتھارٹی کے جاری کردہ آڈٹس میں لائسنس یافتہ آپریٹرز کے اندر کسی قسم کی خلاف ورزی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
مزید پڑھیں: صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا ثبوت نہیں ملا: واٹس ایپ
پی ٹی اے کے مطابق غیر قانونی مواد کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران اب تک 1,372 ویب سائٹس، موبائل ایپس اور سوشل میڈیا پیجز بلاک کیے جا چکے ہیں جو ذاتی ڈیٹا کی فروخت یا شیئرنگ میں ملوث تھے۔
مزید برآں، وزارتِ داخلہ نے اس معاملے کی مزید چھان بین کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پی ٹی اے ڈیٹا لیک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پی ٹی اے ڈیٹا لیک ڈیٹا لیک پی ٹی اے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔