WE News:
2026-06-02@22:48:47 GMT

پی ٹی اے نے مبینہ ڈیٹا لیک کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا

اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT

پی ٹی اے نے مبینہ ڈیٹا لیک کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے صارفین کے ذاتی ڈیٹا لیک سے متعلق میڈیا رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق صارفین کا ذاتی ڈیٹا اتھارٹی کے پاس موجود نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے پی ٹی اے مینیج کرتا ہے، بلکہ یہ معلومات صرف لائسنس یافتہ آپریٹرز کے پاس ہوتی ہیں۔

پی ٹی اے نے وضاحت کی کہ منظر عام پر آنے والا مواد بظاہر مختلف ذرائع سے جمع کیا گیا ہے۔ اتھارٹی کے جاری کردہ آڈٹس میں لائسنس یافتہ آپریٹرز کے اندر کسی قسم کی خلاف ورزی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

مزید پڑھیں: صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا ثبوت نہیں ملا: واٹس ایپ

پی ٹی اے کے مطابق غیر قانونی مواد کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران اب تک 1,372 ویب سائٹس، موبائل ایپس اور سوشل میڈیا پیجز بلاک کیے جا چکے ہیں جو ذاتی ڈیٹا کی فروخت یا شیئرنگ میں ملوث تھے۔

مزید برآں، وزارتِ داخلہ نے اس معاملے کی مزید چھان بین کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پی ٹی اے ڈیٹا لیک.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پی ٹی اے ڈیٹا لیک ڈیٹا لیک پی ٹی اے

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان

اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔

سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔

حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔

اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان