Express News:
2026-06-02@22:35:16 GMT

فورٹی نیٹ نے سیکیورٹی ڈے کے موقع پر خودمختار SASE پیش کیا

اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT

اسلام آباد: فورٹی نیٹ، جو نیٹ ورکنگ اور سیکیورٹی کے انضمام میں عالمی رہنما ہے، نے پاکستان میں اپنے تیسرے فورٹی نیٹ سیکیورٹی ڈے (16 ستمبر 2025) کے موقع پر اپنا خودمختار SASE (سیکیور ایکسس سروس ایج) حل پیش کیا۔

SASE حل کے ذریعے، فورٹی نیٹ نے یہ دکھایا کہ ادارے کس طرح ڈیٹا رہائش، پرائیویسی اور آپریشنل تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں، بغیر سیکیورٹی، صارف کے تجربے یا اسکیل ایبلٹی پر سمجھوتہ کیے۔

مزید یہ کہ فورٹی نیٹ کا خودمختار SASE حل کاروباروں کو محفوظ طریقے سے صارفین، ایپلیکیشنز اور ڈیٹا کو جوڑنے اور ان کی حفاظت کرنے کے قابل بناتا ہے، چاہے وہ کہیں بھی موجود ہوں۔

اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ڈیٹا مخصوص جغرافیائی حدود میں محفوظ اور پراسیس ہو، تاکہ اداروں کو اپنی حساس معلومات پر مکمل کنٹرول حاصل ہو اور وہ علاقائی اور مقامی ضوابط کی تعمیل کر سکیں۔

فورٹی نیٹ کے ترجمان اور سینئر ریجنل ڈائریکٹر شادی خفاش کے مطابق، SASE کو مختلف صنعتوں کے لیے تیار کیا گیا ہے اور یہ خاص طور پر ان اداروں کے لیے موزوں ہے جو انتہائی ریگولیٹڈ شعبوں میں حساس ڈیٹا کے ساتھ کام کرتے ہیں، جیسے حکومت، مالیات اور صحت کا شعبہ، یا کوئی بھی کاروبار جو خفیہ معلومات اور اہم انفراسٹرکچر کا انتظام کرتا ہو۔

فورٹی نیٹ پاکستان کے ریجنل ڈائریکٹر، ثاقب اشفاق نے کہا کہ "آج کی باہم مربوط عالمی معیشت میں ادارے بڑھتے اور مسلسل بدلتے ہوئے سائبر سیکیورٹی خطرات اور تعمیل کی پیچیدگیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی وقت، مقامی ڈیٹا پروٹیکشن قوانین، جیسے پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل (PDPB) 2023، سختی سے  تقاضا  کرتے ہیں جنہیں پاکستان میں اداروں کو پورا کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ فورٹی نیٹ کا خودمختار SASE اداروں کو خطرات کو پیشگی شناخت کرنے اور ان پر فوری ردعمل دینے، اینوملی ڈیٹیکشن بہتر بنانے اور صارف کے تجربے کو مزید بہتر کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک زیادہ تیز اور شفاف صنعت وجود میں آتی ہے جو اپنے شہریوں کی ضروریات کا بروقت جواب دے سکتی ہے۔"

پاکستان میں فورٹی نیٹ کا تیسرا سیکیورٹی ڈے صارفین، شراکت داروں، انڈسٹری کے ماہرین اور معزز مہمانوں کو ایک ساتھ لا رہا ہے، جن میں قومی حکومت کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

معلوماتی تقاریر کے علاوہ، ایک خصوصی ٹیک ایکسپو نے سیکیورٹی کے بارے میں آگاہی  حاصل کرنے، تازہ ترین رحجانات اورنئی ٹیکنالوجیز دریافت کرنے اور ساتھیوں اور ماہرین سے روابط قائم کرنے کے مواقع فراہم کیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خودمختار SASE فورٹی نیٹ

پڑھیں:

بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔

ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:

حربیار مری کے نام

ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار

کالی رات کا خوف ہے حربیار

پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر

ایک آگ کی طرح ہے حربیار

اسکو خبر ہے اس راستہ کا

آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار

حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے

ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار

حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان