کراچی:

حب چوکی پر دوران چیکنگ بس سے بھاری مقدار میں اسمگل شدہ سامان نکل آیا، سامان کی کسٹم ویئر ہاؤس منتقلی کے خلاف ٹرانسپورٹرز نے سڑک بند کردی، کسٹمز کو ہوائی فائرنگ کرنی پڑی متعلقہ پولیس بھی پہنچ گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ کراچی کو حب چوکی پر کسٹمز چیک پوسٹ پر ٹرانسپورٹرز کی زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، انسداد اسمگلنگ مہم کی کاروائی میں بلوچستان سے کراچی آنے والی ایک مشکوک مسافر بس کو روک کر جب اسکی تلاشی لی تو اس کے خفیہ خانوں سے بڑی مقدار میں اسمگل شدہ اشیاء برآمد ہوئیں۔

حکام بس کو جب کسٹمز ویئر ہاؤس منتقل کرنے کی کوشش کررہے تھے تو ٹرانسپورٹرز نے احتجاج کرتے ہوئے بلوچستان سے آنے والی دیگر مسافر بسوں کو روک کر سڑک بند کردی۔ اس دوران مظاہرین اور کسٹمز اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جبکہ کسٹمز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔ علاقہ پولیس صورتحال پر قابو پانے کے لیے پہنچ گئی۔ 

اس ضمن میں ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز رضانقوی نے ایکسپریس کو بتایا کہ کسٹمز کے عملے نے انسداد اسمگلنگ مہم کے تحت اپنی معمول کی کاروائی میں بلوچستان سے کراچی آنے والی ایک مشکوک مسافر بس کو روک کر جب اس کی تلاشی لی تو خفیہ خانوں سے ایک کروڑ مالیت کی مختلف اقسام کی اسمگل شدہ اشیاء برآمد ہوئیں جنہیں حکام کسٹمز ویئر ہاؤس لے جارہے تھے لیکن چند شرپسند ٹرانسپورٹرز نے کسٹمز حب چوکی چیک پوسٹ پر پتھراؤ کیا۔

رضا نقوی کے مطابق ٹرانسپورٹرز نے بسوں کو روک کر سڑک بلاک کرکے کسٹمز کے عملے کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی حالانکہ اس مسافر بس سے غیرملکی سگریٹس انڈین کاسمیٹکس کپڑا و دیگر اسمگل شدہ اشیاء برآمد ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ کسٹمز حکام نے حب چیک پوسٹ پر برآمد ہوئی اسمگل شدہ اشیاء کی وہیں انوینٹری مرتب کی اور مقدمہ درج کرکے اسمگلنگ میں استعمال ہوئی مسافر بس سمیت دو کروڑ روپے مالیت کی اسمگل شدہ اشیاء کو ضبط کرکے کسٹمز کے وئیر ہاؤس منتقل کردیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کار سرکار میں مداخلت، قانون ہاتھ میں لے کر ہنگامہ آرائی کرنے والے عناصر کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسمگل شدہ اشیاء ٹرانسپورٹرز نے کو روک کر مسافر بس حب چوکی

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا