پشاور سی ٹی ڈی تھانے میں دھماکا، پاک افغان مذاکرات کے دوران دہشتگردی کا نیا واقعہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
افغانستان کے ساتھ حالیہ سیکیورٹی مذاکرات اور سرحدی رابطوں کے حساس مرحلے میں پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر واقع کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں دھماکا ہوا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے سے عمارت کے ایک حصے کو نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پولیس کی کارروائی اور سیکیورٹی اقدامات
ایس ایس پی آپریشنز پشاور کے مطابق واقعے کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، اور تھانے میں موجود تمام ملزمان کو حفاظتی اقدام کے طور پر سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز منتقل کر دیا گیا۔
دہشتگردی کے تناظر میں واقعہ
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشتگردی کے خاتمے اور سرحدی تعاون کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے ممکنہ طور پر مذاکراتی عمل کو متاثر کرنے یا پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کی نوعیت جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ابتدائی شبہ داخلی تخریب کاری یا تخریبی مواد کے غیر ارادی دھماکے کی جانب کیا جا رہا ہے۔
مزید تفصیلات تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں آندھی اور بارش؛ دیواریں و چھتیں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق
پشاور:خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث دیواریں اور چھتیں گرنے سے اب تک دو افراد جاں بحق اور 31 زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ روز ہونے والی تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث گھروں کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی گئی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز آندھی اور بارش کے باعث آسمانی بجلی اور گھروں کی دیواریں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں دو مرد جبکہ زخمیوں میں 7 خواتین، 16 مرد اور 8 بچے شامل ہیں۔
مزید پڑھیںپشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریائے کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور بنوں میں پیش آئے۔ پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور آپس میں قریبی رابطہ میں ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد از جلد ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ بارش اور تیز ہواؤں کا موجودہ سلسلہ 5 جون تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی معلومات، آگاہی یا کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پر دیں۔