مولانا ہدایت الرحمن کی ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250918-08-7
کوئٹہ (اے پی پی) رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، پروجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میرجان بلوچ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔چیف انجینئر حاجی سید محمد نے جی ڈی اے کے جاری ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص اولڈ ٹان بحالی منصوبے اور دیگر ترقیاتی اقدامات میں پیشرفت پر آگاہی دی۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میرجان بلوچ نے گوادر میں پانی کی موجودہ صورتحال، مستقبل کے اقدامات اور گزشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق آگاہ کیا۔مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ گوادر شہر میں پانی کی فراہمی کا پورا نظام جی ڈی اے کے سپرد کیا جا رہا ہے، جو ایک خوش آئند فیصلہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جی ڈی اے کی بچھائی گئی نئی پائپ لائنوں کو فوری طور پر فعال کیا جائے تاکہ شہریوں کو بروقت پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہائوس کنکشن کے لیے فوری طور پر درخواستیں جمع کرائیں تاکہ گھروں تک نئی لائنوں کے ذریعے پانی کی سپلائی شروع کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔