سیاف کی اپیل پر میرٹ کی پامالی کیخلاف احتجاجی کیمپ قائم
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250918-11-18
بدین (نمائندہ جسارت )ایس یو پی اسٹوڈنٹس فیڈریشن (سیاف) کی مرکزی اپیل پر سندھ پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کی پامالی اور کرپشن کے خلاف بدین پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم، کیمپ میں بڑی تعداد میں طلبہ اور تنظیمی رہنماؤں نے شرکت کی۔سندھ یونائیٹڈ اسٹوڈنٹس فیڈریشن (سیاف) کی مرکزی اپیل پر سندھ پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کی پامالی اور کرپشن کے خلاف بدین پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ میں ایس یو پی کے مرکزی نائب صدر ایڈوکیٹ امیر آزاد سمیت بڑی تعداد میں طلبہ اور تنظیمی رہنماؤں نے شرکت کی اس موقع پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے مرکزی نائب صدر امیر آزاد پھنور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن مکمل طور پر میرٹ کو پامال کرنے والا ادارہ بن چکا ہے، جو پاکستان پیپلز پارٹی کی کرپٹ حکومت کے آشیر باد سے چل رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی حکومت سفارش اور رشوت کے عوض نوکریاں فروخت کر کے اہل اور محنتی نوجوانوں کی حق تلفی کر رہی ہے، جس سے سندھ کا مستقبل تاریک بنایا جا رہا ہے، رہنماؤں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ مایوسی کا شکار نہ ہوں بلکہ اس ناانصافی اور کرپٹ نظام کے خلاف پرامن عوامی جدوجہد کا حصہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپٹ افسر شاہی اور کمیشن مافیا کے دفاتر کا عوامی محاصرہ کر کے ہی انصاف اور حق حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے باشعور نوجوان ہی اصل طاقت ہیں اور اگر وہ منظم ہو جائیں تو سفارش اور کرپشن کے اس گھناؤنے کھیل کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ احتجاجی کیمپ میں شریک رہنماؤں میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے مرکزی نائب صدر امیر آزاد پنہور، سیاف کے مرکزی صدر امر آکاش لاکو، مرکزی جنرل سیکریٹری زبیر حسن پنہور، مرکزی نائب صدر ارسلان آریسر، دانش نور سومرو، ضلعی رہنما سکندر پنہور، فدا شاہ اور ماجد انصاری اور دیگر عہدیدران اور کارکن بڑی تعداد شامل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: احتجاجی کیمپ رہنماو ں کے مرکزی
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک