موبائل ڈیٹا فروخت کیےجانے کا معاملہ؛ سائبر کرائم ایجنسی متحرک ہوگئی، تفتیش کے دوران نئے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
انٹرنیٹ پر شہریوں کا ڈیٹا فروخت کیے جانے سے متعلق ایکسپریس نیوز کی نشر کی گئی خبر پر وفاقی وزیر داخلہ کے نوٹس کے بعد سائبر کرائم ایجنسی متحرک ہوگئی جب کہ نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کی خصوصی ٹیم کی تفتیش کے دوران نئے انکشافات بھی سامنے آگئے۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ ڈیٹا بیچنے کے دھندے میں ویب سائٹس کے علاوہ متعدد موبائل ایپلیکیشنز کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے، این سی سی آئی اے کی ٹیم نے ویب سائٹس کے ساتھ ساتھ ایپلیکیشنز کا تجزیہ بھی شروع کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزرا، حکومتی شخصیات اور اعلیٰ افسران سمیت پاکستانیوں کا موبائل سمز ڈیٹا انٹرنیٹ پر لیک
ذرائع نے بتایا کہ ڈیٹا 2023 سے پہلے چوری ہوا یا بعد میں اس کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے، جو عناصر ویب سائٹس اور موبائل ایپس پر ڈیٹا بیچ رہے تھے، ان کی گرفتاری کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈیٹا بیچنے والی ویب سائٹس اور ایپس کی نشاندہی کرلی گئی، مذکورہ ویب سائٹس اور ایپس کو پاکستان میں مکمل بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویب سائٹس
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔