فرانس کی قطر و امارات کو رافیل طیاروں کی فروخت اور پاکستانی پائلٹس کی تربیت سے بھارت پریشان
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فرانس کی جانب سے قطر اور متحدہ عرب امارات کو جدید رافیل لڑاکا طیاروں کی فروخت نے بھارت میں تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کے بعد بھارتی فضائیہ کو خدشہ ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن اس کے خلاف جا سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ان طیاروں کے ذریعے پاکستان اور ترکی کے پائلٹس کو جدید ترین فضائی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق قطر اور متحدہ عرب امارات نے پاکستانی اور ترک پائلٹس کو رافیل اور میراج طیاروں پر تربیت حاصل کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے بھارتی دفاعی ماہرین کے مطابق حساس ٹیکنالوجی کے افشا ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے دفاعی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ پیش رفت بھارت کے لیے “سنگین اسٹریٹجک چیلنج” بن سکتی ہے، کیونکہ رافیل طیارے بھارت کی فضائی طاقت کا اہم حصہ ہیں۔
یورپی دفاعی تجزیہ کار بابک تغوائی کے مطابق فرانس کی نرم برآمدی پالیسی اس بات کا سبب بن رہی ہے کہ اس کی حساس فوجی ٹیکنالوجی اُن ممالک تک پہنچ رہی ہے جو یا تو نیٹو کے رکن نہیں ہیں یا بھارت کے اسٹریٹجک حریف سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فرانس نے برآمدی کنٹرول سخت نہ کیے تو بھارت کی دفاعی برتری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔