data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)گلشن جمال میں پانی کی عدم فراہمی کے خلاف درخواست کی سماعت، واٹر کارپوریشن کے وکیل نے تحریری جواب جمع کرادیا۔سندھ ہائیکورٹ میں گلشن جمال میں پانی کی عدم فراہمی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی جہاں واٹر کارپوریشن کا کہنا تھا کہ گلشن جمال کا علاقہ واٹر کارپوریشن کی نہیں بلکہ کنٹونمنٹ بورڈ فیصل کی حدود میں آتا ہے، درخواست گزار محتسب اعلیٰ کے جس حکم نامے کا حوالہ دے رہے ہیں وہ حکومت کالعدم قرار دے چکی ہے، کنٹونمنٹ کے وکیل محمد عاصم نے وکالت نامہ جمع کرادیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر کنٹونمنٹ بورڈ فیصل سے 26 اکتوبر کو جواب طلب کرلیا،درخواست جماعت اسلامی کے امیر ضلع شرقی نعیم اختر کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں کہاگیا کہ واٹر کارپوریشن حکام نے تاحال جواب جمع نہیں کرایا ہے،علاقے میں پانی نہ آنے کی وجہ سے رہائشی ٹینکر سروس کو ہر ماہ ہزاروں روپے دے کر پانی خریدنے پر مجبور ہیں ، گلشن جمال کے رہائشی افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں اور پھر بھی ان لوگوں کو پانی نہیں ملتا، علاقہ مکین کئی سال سے پانی نا آنے کی وجہ سے شدید مشکلات سے دو چار ہیں ، متعلقہ حکام کو علاقے میں نئی پانی کی لائن بچھانے کا حکم دیا جائے، درخواست میں واٹر کارپوریشن ، فیصل کنٹونمنٹ، سندھ حکومت اور دیگر کو درخواست میں فریق بنایا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: واٹر کارپوریشن گلشن جمال میں پانی پانی کی

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا

اسلام آباد:

ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔

متعلقہ مضامین

  • پاپ کوئین میڈونا کی شاندار واپسی، ’کنفیشنز 2‘ بل بورڈ 200 پر نمبر ون
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا