حزب الله کو طاقت کے بل پر غیر مسلح نہیں کیا جا سکتا، لبنانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
اپنے ایک دعوے میں واشنگٹن کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ایسی معلومات فراہم کی ہیں جن كی رو سے حزب الله اپنی كھوئی ہوئی طاقت كو بحال کر رہی ہے اور لبنان سے باہر کارروائیاں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بیروت میں موجود آگاہ ذرائع نے خبر دی کہ واشنگٹن نے لبنانی حکام کو ایک انتباہی پیغام دیا۔ اس پیغام کے ذریعے امریکی ایلچی "ٹام باراک" نے لبنان کو دھمکاتے ہوئے کہا کہ "حزب الله" کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے بیروت کو جلد حتمی فیصلہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا بیروت کا آخری دورہ ہے۔ اس دوران میں لبنان کے سربراہان سے کہوں گا کہ اب اُن کے پاس صرف ایک موقع باقی ہے، یا وہ امریکی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں شامل ہوں تاکہ حزب الله کو غیر مسلح کرنے کے لئے وقت اور طریقہ کار طے کیا جا سکے، یا لبنان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور پھر امریکہ یا خطے میں کوئی بھی اس کی مدد نہ کرے۔ ایسی صورت میں اسرائیل، حزب الله کو طاقت کے ذریعے غیر مسلح کرنے کے لئے ہر ضروری اقدام کرنے میں آزاد ہو گا۔ آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹام باراک آئندہ دنوں میں بیروت پہنچیں گے، جہاں وہ لبنانی صدر، وزیر اعظم، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور آرمی چیف سے ملاقات کریں گے۔ ٹام باراک کے اس دورے کا مقصد، امریکی ثالثی کے باوجود مذاکرت سے لبنان کے انکار کی صورت میں، وہاں سیاسی عمل کو برقرار رکھنے کی آخری کوشش ہے۔
لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ، لبنان سے اسرائیل اور شام كے درمیان ہونے والے مذاکرات کی طرز پر بات چیت کا خواہاں ہے۔ وہ حزب الله کو غیر مسلح کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد میں لبنانی عہدیداروں کے كسی عذر كو قبول نہیں كر رہا۔ رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے ایسی معلومات فراہم کی ہیں جن كی رو سے حزب الله اپنی كھوئی ہوئی طاقت كو بحال کر رہی ہے اور لبنان سے باہر کارروائیاں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے ہمیشہ کی طرح بے بنیاد الزامات کو دُہراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مہینوں میں حزب الله نے شام سے سینکڑوں شارٹ رینج میزائل لبنان پہنچائے ہیں۔ دریں اثناء، مغرب کی جانب سے حزب الله کو غیر مسلح کرنے کے مطالبوں کے جواب میں، لبنان کے صدر "میشل عون" نے کہا کہ حزب الله کو غیر مسلح کرنا ناممکن ہے اور فوج اس مشن کو انجام دینے کے قابل نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طاقت کے ذریعے حزب الله کو غیر مسلح کرنے کی کوئی بھی کوشش، خانہ جنگی کے آغاز کا باعث بنے گی۔ میشل عون نے غیر ملکی ثالثوں سے یہ بھی کہا کہ حزب الله کی اپنے ہتھیاروں سے وابستگی کوئی سیاسی دکھاوا نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، جس کے نتیجے میں کوئی بھی لبنانی عہدیدار ایسا فیصلہ نہیں کر سکتا جو ملک کو خانہ جنگی میں دھکیل دے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الله کو غیر مسلح کرنے کو غیر مسلح کرنے کے کہا کہ
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔