لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
شہر لاہور میں ایک ہزار گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز بنانے کا بڑا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق زیر زمین پانی کی سطح کو برقرار اور ریچارج کرنے کے لیے بڑا منصوبہ متعارف کروایا جائے گا۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے لبرٹی چوک گراؤنڈ واٹر ریچارج ویل سائٹ کا دورہ کیا جہاں ایم ڈی واسا غفران احمد نے پراجیکٹ پر بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ زیر زمین پانی کی سطح کو ریچارج کرنے کےلیے ریچارج ویل بنایا گیا ہے۔ گراؤنڈ واٹر ریچارج ویل کی کپیسٹی یومیہ 8000 گیلن ہے جبکہ لاہور میں تین گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز فنکشنل ہیں۔
مزید برآں لاہور میں کل 15 مقامات پر گراؤنڈ واٹر ویل بنائے جائیں گے۔ نورالامین مینگل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق جدید انجینئرنگ حل متعارف کراویا گیا ہے۔ پی ایچ اے لاہور تمام پارکس میں گراؤنڈ واٹر ریچارج ویل کے لیے جگہ مختص کرے گی۔
نورالامین مینگل نے کہا کہ گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز کی تعمیر کے دوران موجودہ درختوں کا خاص خیال رکھا جائے، ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے اہم فیصلے لیے گئے ہیں۔ واسا پنجاب کے تحت صوبہ بھر میں گراؤنڈ واٹر ریچارج پوائنٹس بنائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پانی ایک نعمت، اسے ضائع ہونے سے بچانا ہے۔ تمام ادارے اس پراجیکٹ کو سنجیدگی سے مکمل کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاہور میں
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :