بنگلہ دیش ایئر فورس نے اپنے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے چین کے ساتھ مل کر ایک ڈرون مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ منصوبہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر معاہدے کے تحت کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے بنگلہ دیش میں ہی بغیر پائلٹ طیارے تیار کیے جائیں گے، پلانٹ کی تعمیر دسمبر 2025 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے پاکستان اور چین کیساتھ ملکر سہ فریقی اتحاد بنانے کی خبروں کی تردید کردی

یہ اقدام بنگلہ دیش کی دفاعی صنعت کو خود کفیل بنانے کی سمت ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

#BREAKING The Bangladesh Air Force (BAF) is partnering with China to establish an unmanned aerial vehicle (UAV) or drone manufacturing plant in Bangladesh through a technology transfer agreement.


Also China to establish a new MRO plant for fighter aircraft overhauling. pic.twitter.com/XuQynVjuJ0

— Defense Technology of Bangladesh-DTB (@DefenseDtb) November 2, 2025

اس کے ساتھ ہی چین نے بنگلہ دیش میں ایئرکرافٹ اوور ہالنگ سینٹر قائم کرنے کی بھی تجویز دی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ایرو اسپیس ٹیکنالوجی میں تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔

یہ تفصیلات ستمبر میں ہونے والے ایک کوارڈی نیشن اجلاس میں سامنے آئیں جس کی صدارت چوہدری عاشق محمود بن ہارون، چیئرمین بنگلہ دیش انویسٹمنٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے کی۔

مزید پڑھیں: چین کا ڈاکٹر یونس کی قیادت میں بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کا عزم

اجلاس میں ایک ڈیفنس اکنامک زون کے قیام پر بھی غور کیا گیا جو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فوجی اور نیم فوجی سازوسامان کی تیاری میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گا۔

بی اے ایف کے ایک نمائندے کے مطابق، بنگلہ دیش ایروناٹیکل ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر جو 2 سال قبل قائم کیا گیا تھا، اب تک 4 طیاروں کا کامیاب ڈیزائن اور تجرباتی پرواز مکمل کر چکا ہے۔

ادارے کا طویل المدتی ہدف مقامی تربیتی طیارے تیار کرنا اور مستقبل میں کمرشل اسپورٹ ایئرکرافٹ مارکیٹ میں داخل ہونا ہے۔

حکام نے زور دیا کہ ایوی ایشن ٹیکنالوجی کی عالمی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: چین بنگلہ دیش میں 2.1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے پرعزم

ان کے مطابق، اس طرح کی کوششیں بنگلہ دیش کے ایوی ایشن سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو نمایاں طور پر فروغ دے سکتی ہیں۔

چین کی اوور ہالنگ سہولت کے منصوبے کے حوالے سے بی اے ایف حکام کا کہنا ہے کہ نئے آلات کی تنصیب اور موجودہ عملے کی تربیت کے بعد بنگلہ دیش استعمال شدہ طیاروں کے انجن اوورہال کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

حکام کے مطابق، چونکہ خطے کے دیگر ممالک میں بھی اسی طرز کے طیارے استعمال ہوتے ہیں، اس لیے یہ منصوبہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انویسٹمنٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اوور ہالنگ ایئر فورس ایرو اسپیس ٹیکنالوجی بنگلہ دیش چین ڈرون مینوفیکچرنگ پلانٹ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اوور ہالنگ ایئر فورس ایرو اسپیس ٹیکنالوجی بنگلہ دیش چین ڈرون مینوفیکچرنگ پلانٹ سرمایہ کاری بنگلہ دیش کی سرمایہ کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار