ابوظہبی ٹی10 لیگ: 1xBat مسلسل دوسرے سال بھی آفیشل اسپانسر مقرر WhatsAppFacebookTwitter 0 3 November, 2025 سب نیوز

رواں سیزن میں آٹھ ٹیمیں ٹائٹل اور انعامی رقم کی دوڑ میں شامل ہوں گی
ابوظہبی: معروف اسپورٹس نیوز پلیٹ فارم 1xBat اسپورٹنگ لائنز نے ابوظہبی ٹی10 لیگ کے لیے ایک بار پھر اسپانسر شپ معاہدہ کر لیا ہے۔ یہ دوسرا سال ہے کہ 1xBat اس تیزی سے مقبول ہونے والی کرکٹ لیگ کا اسپانسر بن رہا ہے۔ تازہ معاہدہ لیگ کے نویں سیزن کے تمام میچز کا احاطہ کرے گا،

جو 18 نومبر سے 30 نومبر تک ابوظہبی میں منعقد ہوں گے۔ابوظہبی ٹی10 چیمپئن شپ کا آغاز 2017 میں ہوا تھا، جس نے مختصر فارمیٹ کے ساتھ 10 اوورز فی اننگز پر مشتمل منفرد کرکٹ متعارف کرائی۔ رواں سیزن میں آٹھ ٹیمیں ٹائٹل اور انعامی رقم کی دوڑ میں شامل ہوں گی۔ ایونٹ دو مراحل پر مشتمل ہوگا: ریگولر سیزن اور پلے آف۔ اس بار بھی عالمی کرکٹ کے بڑے نام ایکشن میں نظر آئیں گے جن میں ہربھجن سنگھ، آندرے رسل، کیرون پولارڈ، شمرون ہیٹمائر، پيوش چاؤلہ اور فاف ڈوپلیسیس شامل ہیں۔ تمام میچز زاید کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوں گے۔1xBat اور ابوظہبی ٹی10 انتظامیہ کے مطابق، یہ شراکت مشترکہ اقدار اور کرکٹ کے فروغ کے جذبے پر مبنی ہے۔

معاہدے کے تحت لیگ کی تشہیر کو مزید مؤثر بنانے اور نئے شائقین کو متوجہ کرنے کے لیے خصوصی مہمات بھی چلائی جائیں گی۔1xBat کے ترجمان نے کہا کہ “ہمیں مسلسل دوسرے سیزن میں ابوظہبی ٹی10 کی اسپانسر شپ پر فخر ہے۔ شائقین اس لیگ کو تیز رفتار کرکٹ اور غیر متوقع مقابلوں کی وجہ سے پسند کرتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار استنبول پہنچ گئے، غزہ کی صورتحال پر اہم اجلاس میں شریک ہونگے نیوزی لینڈ کے سابق کپتان کین ولیمسن کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان تیسرا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان کا جنوبی افریقا کیخلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ ابوظہبی ٹی10؛عالمی کرکٹ اسٹارز کے ساتھ رائل چیمپس کی انٹری دوسرا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 9 وکٹوں سے شکست دیدی محمد عامر ابوظہبی ٹی10 لیگ میں کوئٹہ کیولری کے کپتان مقرر کرکٹ میں پاک بھارت ٹیمیں ایک بار پھر مد مقابل ہونے کو تیار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ابوظہبی ٹی10 لیگ

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی