پیٹرول پمپ سیل کرنے کے الزام میں میئر کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250918-11-14
میرپورخاص(نمائندہ جسارت) پیٹرول پمپ سیل کرنے اور قبضہ کرنے کے الزام میں میرپورخاص کے میئر، میونسپل کمشنر اور ایس ایچ او ٹاون سمیت 12 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، ملزمان نے ہائیکورٹ حیدرآباد سے ایک ہفتے کی عبوری ضمانت حاصل کر لی ہے تفصیلات کے مطابق میرپورخاص کے ایک شہری راجہ اشتیاق علی کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ سرکٹ بینچ میرپورخاص میں دائر درخواست کے بعد ٹاؤن تھانے میں میونسپل کارپوریشن کے میئر عبدالرؤف غوری، میونسپل کمشنر انیس الرحمان سیال، میونسپل کارپوریشن میں تجاوزات سے متعلق افسران اورنگزیب مغل، ٹیکسیشن افسر عبدالسلام میمن، انکرچمنٹ انچارج حاجی صدیق، ایس ایچ او ٹاون کامران ہالیپوٹو، اے ایس آئی عرس محمد مری سمیت پولیس اہلکاروں اور میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں کے خلاف بھتہ، اقدام قتل، ہنگامہ آرائی اور دیگر الزامات کے تحت پیٹرول پمپ کے مالک راجہ اشتیاق کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے درخواست گزار نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا ہے کہ تمام کاروائی کا سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ محفوظ ہے زیر زمین ٹینک میں ذخیرہ شدہ 5000 لیٹر تیل قبضے میں لے لیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔