پنجاب اسمبلی میں وزرا کی عدم موجودگی پر حکومتی اراکین برس پڑے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وزرا کی عدم موجودگی پر مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نے اپنے ہی حکومتی نمائندوں کیخلاف سخت باتیں کیں۔

حکومتی رکن احسن رضا خان نے کہا کہ ہم یہاں اتے ہیں باتیں کر کے چلے جاتے ہیں، کسی مسلے کا کوئی حل نہیں نکلتا کیونکہ یہاں وزرا ہوتے ہی نہیں ہیں۔

احسن رضا خان نے مزید کہا کہ اس بار جو سیلاب آیا وہ تاریخی سیلاب تھا، ہم نے سیلاب زدگان کی ہر ممکن مدد کرنی ہے، ستلج سیلاب سے ہم متاثر ہوئے ہیں کسی بھی سیلاب کے وقت ریسکیو اور بحالی کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔

سعید اکبر نوانی نے کہا کہ اسپیکر صاحب حکومتی وزرا کو پابند کریں ہاؤس میں آیا کریں، جب کوئی سننے والا نہ ہو تو اس ہاؤس کا مقصد ختم ہوجاتا ہے۔

حکومتی رکن سعید اکبر نوانی نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار دیکھا ہے وزرا اس ہاؤس کو اہمیت نہیں دیتے جو کبھی ایسا نہیں ہوا، حکومت کو بیل آؤٹ کریں جہاں کوئی ضرورت ہو، آپ نے اس ہاؤس کی نمائندگی کرنی ہے حکومت وزراء اپنی کارکردگی بتائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جتنی حکومت و وزیر اعلیٰ کے اس سیلاب میں کوشش کی وہ قابل تعریف ہے، یہ کام میرا اور آپکا نہیں ہے نیلی گاڑیاں اور مراعات لینے والے بتائیں حکومت کیا کر رہی ہے اس سے عوام پر زیادہ اثر ہوگا۔

صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین نے کہا کہ حالیہ سیلاب تاریخ کا بدترین سیلاب ہے اے سی ڈی سیز سروے کررہے ہیں، سروے مکمل ہونے کے بعد سیلاب ایک کمرہ گرنے والے متاثر کو پانچ لاکھ اور دو کمرے گرنے والے مالکان کو دس لاکھ روپے ملے گا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے سیلاب زدگان کی ہر ممکن مدد کی جائے، پارلیمانی کمیٹی کی سیلاب پر ڈاکومنٹ رپورٹ آنے دیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان