معاون خصوصی وزیراعلیٰ سندھ کی کھلی کچہری میں عوام کی عدم دلچسپی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-2-11
محراب پور(جسارت نیوز)وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے ماحولیات، ماحولیاتی تبدیلی، ساحلی ترقی دوست محمد راہموں کی کھلی کچہری میں عوام کی عدم دلچسپی، سرکاری ملازمین سے کرسیاں بھرنے کی کوشش، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،سندھ میں مختلف محکموں کی کارکردگی کا جاہزہ لینے کیلئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدائیت پر علی احمد پارک نوشہرو فیروز میں منعقد کھلی کچہری ناکام ثابت ہوئی، حالانکہ رکن صوبائی اسمبلی ممتاز علی چانڈیو، سید سرفرار علی شاہ، سید حسن علی شاہ، ڈپٹی کمشنر محمد ارسلان سلیم، ایس ایس پی روحل خان کھوسو، چیئرمین ضلع کونسل سہیل اختر عباسی، ضلع کے سرکاری محکموں کے افسران اس میں شریک تھے، ذرائع کے مطابق کھلی کچہری میں عوام کے نہ آنے پر سرکاری ملازمین کو بلا کر عوامی خلا کو پورا کرنے کی کوشش کی لیکن سینکڑوں کرسیاں خالی ہونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل سے انتظامیہ کی کلی کھل گئی، کھلی کہری سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی مشیردوست محمد راہمون نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کھلی کچہریاں عوام اور انتظامیہ کے درمیان مضبوط اور براہِ راست رابطہ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، ہمارا پیپلز پارٹی سے تعلق ہے اور عوام کے مسائل سن کر جو مسائل قابل حل ہیں انہیں فوری طور پر حل کیا جائے گا، دیگر مسائل جن کا حل سندھ حکومت کے پاس ہے ان کی نشاندہی اور سفارش کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کھلی کچہری
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔