پنجاب اسمبلی میں حکومتی اراکین وزرا کی عدم موجودگی پر برس پڑے WhatsAppFacebookTwitter 0 28 October, 2025 سب نیوز

لاہور (سب نیوز )پنجاب اسمبلی میں وزرا کی عدم موجودگی پر حکومتی اراکین برس پڑے۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وزرا کی عدم موجودگی پر مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نے اپنے ہی حکومتی نمائندوں کیخلاف سخت باتیں کیں۔حکومتی رکن احسن رضا خان نے کہا کہ ہم یہاں اتے ہیں باتیں کر کے چلے جاتے ہیں، کسی مسلے کا کوئی حل نہیں نکلتا کیونکہ یہاں وزرا ہوتے ہی نہیں ہیں۔

احسن رضا خان نے مزید کہا کہ اس بار جو سیلاب آیا وہ تاریخی سیلاب تھا، ہم نے سیلاب زدگان کی ہر ممکن مدد کرنی ہے، ستلج سیلاب سے ہم متاثر ہوئے ہیں کسی بھی سیلاب کے وقت ریسکیو اور بحالی کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔سعید اکبر نوانی نے کہا کہ اسپیکر صاحب حکومتی وزرا کو پابند کریں ہاس میں آیا کریں، جب کوئی سننے والا نہ ہو تو اس ہاس کا مقصد ختم ہوجاتا ہے۔

حکومتی رکن سعید اکبر نوانی نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار دیکھا ہے وزرا اس ہاس کو اہمیت نہیں دیتے جو کبھی ایسا نہیں ہوا، حکومت کو بیل آٹ کریں جہاں کوئی ضرورت ہو، آپ نے اس ہاس کی نمائندگی کرنی ہے حکومت وزرا اپنی کارکردگی بتائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جتنی حکومت و وزیر اعلی کے اس سیلاب میں کوشش کی وہ قابل تعریف ہے، یہ کام میرا اور آپکا نہیں ہے نیلی گاڑیاں اور مراعات لینے والے بتائیں حکومت کیا کر رہی ہے اس سے عوام پر زیادہ اثر ہوگا۔صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین نے کہا کہ حالیہ سیلاب تاریخ کا بدترین سیلاب ہے اے سی ڈی سیز سروے کررہے ہیں، سروے مکمل ہونے کے بعد سیلاب ایک کمرہ گرنے والے متاثر کو پانچ لاکھ اور دو کمرے گرنے والے مالکان کو دس لاکھ روپے ملے گا۔اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے سیلاب زدگان کی ہر ممکن مدد کی جائے، پارلیمانی کمیٹی کی سیلاب پر ڈاکومنٹ رپورٹ آنے دیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسحاق ڈار اور ترک وزیرخارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، غزہ کی بدلتی صورتحال پر گفتگو اسحاق ڈار اور ترک وزیرخارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، غزہ کی بدلتی صورتحال پر گفتگو عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر وزیراعلی کے پی کا توہین عدالت کی درخواست دینے کا اعلان کابینہ ڈویژن نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کا توشہ خانہ ریکارڈ جاری کردیا پاکسعودی اقتصادی تعاون کا فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق:وزیر اعظم ،سعودی ولی عہد ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری بجلی کمپنیاں نقصانات میں کمی اور ریکوری بڑھانے میں ناکام، جرمانے عائد فیلڈ مارشل عاصم منیر کا مصر، اردن اور سعودی عرب کا تاریخی دورہ، کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی شاندار مثال TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: وزرا کی عدم موجودگی پر پنجاب اسمبلی کہا کہ

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری