قومی اسمبلی میں پی پی کی حکومت پر تنقید، پی ٹی آئی کا عمران خان کی تصاویر اٹھا کراحتجاج
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
پینل آف دی چیئر علی زاہد کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں پیپلزپارٹی کے اراکین نے شور شرابہ کیا جب کہ پی ٹی آئی اراکین نے ایوان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصاویر اٹھا کر احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔
قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران آغا رفیع اللہ نے کہا کہ اراکین محنت کر کے سوالات لاتے ہیں، صرف گول مول جواب دیے جاتے ہیں اور صرف ٹی اے ڈی اے بنایا جاتا ہے، یہاں جو کتابوں میں جو لکھا جاتا ہے اس کا 10 فیصد بھی نہیں ہے، وزیر صاحب ایف ای بی کے ٹال فری نمبر پر ابھی کال کریں کوئی جواب آئے تو بتا دیں۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی کے سوال کا جواب تفصیلی دیا گیا ہے، لابی میں جا کر ٹال فری نمبر پر بھی کال کر لیتے ہیں، یہ جو یہاں تقریر کر رہے ہیں یہ سیاسی ہے۔
پینل آف چیئر علی زاہد نے آغا رفیع اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو لابی میں بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی ہدایت کر دی۔
اس دوران پی ٹی آئی اراکین ایوان میں پہنچ گئے، اراکین نے بانی پی ٹی آئی کی تصاویر اٹھا کر احتجاج کیا، اپوزیشن اراکین نے ایوان میں نعرے بازی کی۔
اپوزیشن اراکین نے نقطہ اعتراض مانگ لیا ، پینل آف چیئر نے وقفہ سوالات کے دوران نقطہ عتراض دینے سے معزرت کر لی اور کہا کہ وقفہ سوالات میں نقطہ عتراض نہیں دیا جائے گا۔
اس دوران اپوزیشن رکن اقبال افریدی نے کورم کی نشاندہی کر کردی، پینل آف چیئر کی عملے کو اراکین کی گنتی کی ہدایت کی، کورم سے متعلق اراکین کی گنتی میں ایوان میں کورم پورا نکلا۔
نبیل گبول نے کہا کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کوئی سینٹر میرے حلقے میں نہیں ہے، خواتین وہاں رش کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتی ہیں، وہاں بیٹھے لوگ کرپشن کر رہے ہیں 15 سو روپے ہر خاتون سے لیتے ہیں۔
وفاقی وزیر پیر عمران شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس کو شفاف بنانے کی ہدایت کی ہے، مارچ 2026 تک سارا نظام ڈیجیٹل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہماری حکومت میں کوئی کرپشن نہیں ہوگی۔
آغا رفیع اللہ نے کہا کہ یہاں وزیر تو کوئی ہے نہیں سوالوں کے جوابات کون دے گا، اپوزیشن کا کردار ہم ادا کر رہے تو ہماری حوصلہ افزائی کریں۔
پینل آف چیئر علی زاہد نے کہا کہ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری صاحب یہاں ہیں،آغا رفیع اللہ نے کہا کہ طارق فضل صاحب اپنی باتوں میں لگے ہوئے ہیں، آئیں طارق فضل چوہدری صاحب کوئی حساب کتاب کر لیں۔
اس دوران اپوزیشن رکن اقبال افریدی نے دوبارہ کورم کی نشاندہی کر دی، کورم سے متعلق ایوان میں اراکین کی تعداد گنی گئی تو حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی۔
پینل آف دی چیئر علی زاہد نے کہا کہ ایوان میں 63 اراکین موجود ہیں، پینل آف دی چیئر کے اعلان کے دوران پیپلزپارٹی کے اراکین نے شور شرابہ کیا، قومی اسمبلی کے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میرا توجہ دلاؤ نوٹس روکنےکےلیے قومی اسمبلی کا سیشن مؤخر کرنے کی ہدایات دی گئیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک اہم بیان میں ان کا کہنا تھا کہ قائم مقام اسپیکر کے رویّے پر انتہائی مایوسی ہوئی ہے، کورم موجود ہونے کے باوجود بار بار اجلاس معطل کرنا پارلیمانی نظام کا مذاق بنانے کے مترادف ہے۔
آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ کہا جارہا ہے کہ اسپیکر کو سیشن مؤخر کرنے کی ہدایات دی گئیں تاکہ میرا توجہ دلاؤ نوٹس پیش نہ ہو سکے، اجلاس کو مؤخر کرنا نہایت چھوٹی اور گھٹیا سیاسی چال ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کا اہم بیان
قائم مقام اسپیکر کے رویّے پر انتہائی مایوسی ہوئی ہے، بی بی آصفہ بھٹو زرداری
کورم موجود ہونے کے باوجود بار بار اجلاس معطل کرنا پارلیمانی نظام کا مذاق بنانے کے مترادف ہے، بی بی آصفہ بھٹو زرداری… https://t.
— PPP (@MediaCellPPP) December 10, 2025
حکومت نے جواب نہ دیا تو پارٹی آگے کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی، عبدالقادر پٹیل
اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی رہنما عبدالقادر پٹیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابھی وقفہ سوالات کے دوران میرا سوال مکمل نہیں ہوا تھا کہ کیسے کسی ممبر کا مائیک کھول کر کورم کی اجازت دی گئی۔
مسلم لیگ ن کے رہنما جا کر لابی میں بیٹھ گئے، یہ سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا، شہید بے نظیر بھٹو ائیرپورٹ کی جگہ تبدیل ہو گئی تو اسکا نام کیسے تبدیل ہو گیا؟ کیا نادرہ آفس کی بلڈنگ تبدیل ہونے سے اسکا نام تبدیل ہو جائے گا؟ کیا پارلیمنٹ کی بلڈنگ کی جگہ تبدیل ہو تو اسکا نام بھی تبدیل ہوگا؟
ان کا کہنا تھا کہ شہید بے نظیر کو کسی تعریف کی ضرورت نہیں، چھوٹی سوچ کے لوگ ہیں، ہمیشہ چھوٹے ہی رہیں گے، آپ ایک ایئرپورٹ کا نام چھپاتے پھر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیسی بھونڈی سازش ہے؟ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پر چیز کا ڈٹ کا مقابلہ کیا، حکومت نے جواب نہ دیا تو پیپلز پارٹی میٹنگ میں طے کر کے فیصلہ کرے گی کہ آگے کیا لائحہ عمل ہو گا۔
وزیر اعظم خاتون اول سے کی گئی اپنی بات کو یاد کریں، شازیہ مری
پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شایہ مری نے کہا کہ اگر آپکو لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اسمبلی میں صرف تماشا لگانے آئے گی تو ایسا نہیں ہے، کیا آج بھی وہ بغض ہے کہ ایک ایئرپورٹ کا نام نہیں رکھا جا رہا؟ وزیراعظم سے مطالبہ کرتی ہوں کہ اپنی بات کو یاد کریں جو آپ نے خاتون اول سے کی ہے۔
شازیہ مری کا کہنا تھا کہ لوگ اپنی زندگی میں ہی ایسی ایسی چیزوں کو اپنے نام پر کرتے ہیں کہ دیکھ کے حیرت ہوتی ہے، محترمہ بے نظیر نے تو اپنی زندگی میں کچھ نہیں کہا، وہ ایک عظیم لیڈر تھیں، پی ٹی آئی پرو مودی چینلز پر جا کر پاکستان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں، ہمارے تو انہی عدالتوں نے بد ترین فیصلے سنائے۔
انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار بھٹو کو فیئر ٹرائل نہیں ملا، مگر اسکے باوجود ہم نے کوئی عمارت نہیں جلائی۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل آصفہ بھٹو زرداری طارق فضل چوہدری چیئر علی زاہد آغا رفیع اللہ پینل آف چیئر قومی اسمبلی پیپلز پارٹی وقفہ سوالات کر رہے ہیں ایوان میں اراکین نے نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دوران تبدیل ہو کرنے کی تھا کہ کا نام
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز