سپریم کورٹ؛ خانپور ڈیم آلودہ پانی فراہمی کیس میں ایڈووکیٹ جنرل کے پی کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ نے خانپور ڈیم آلودہ پانی فراہمی کیس میں ایڈووکیٹ جنرل کے پی کو نوٹس جاری کردیا۔
آلودہ پانی کی فراہمی کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کی، جس میں واپڈا کے وکیل احسن رضا نے مؤقف اختیار کیا کہ خانپور ڈیم پانچ ملین لوگوں کو پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ ہے۔ ایگزیکٹو ضلعی انتظامیہ سہولت کاری فراہم کر رہی ہے، جہاں پہلے 20 کشتیاں چلتی تھیں، اب 326 کشتیاں ڈیم میں چل رہی ہیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پی ایچ اے ڈیپارٹمنٹ بھی تو ہے، وہ اس حوالے سے کوئی اصول طے کر لے۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ڈیم کی انتظامیہ کہہ سکتی ہے کہ یہاں موٹر بوٹس چلانا منع ہے۔
وکیل نے بتایا کہ یہ لوگ بوٹنگ پر پیسے کما رہے ہیں، 6 ریزروٹس بھی بنا لیے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کی اجازت کے بغیر وہ کیسے کشتیاں چلا سکتے ہیں؟۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ بوٹنگ رکوانے کے لیے آپ کا کیا کردار ہے؟، جس پر وکیل نے بتایا کہ ہم نے مجسٹریٹ کے سامنے بھی درخواست دائر کی تھی۔ خانپور تحصیل بننے کے بعد حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کشتیوں سے آلودگی پھیل رہی ہے،تو اس کا متبادل کوئی راستہ ہے تو بتائیں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی متبادل راستہ ہے کہ الیکٹرک کشتیاں بھی ہیں، جس سے آلودگی نہیں پھیلے گی۔
بعد ازاں عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔