پنجاب میں چاول کی فصل کا صرف 12 فیصد متاثر، بڑے نقصان کی تردید
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے سیلاب کے باعث چاول کی فصلوں کو لاحق نقصان سے متعلق تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب پنجاب کی چاول کی فصل کا صرف 10 سے 12 فیصد متاثر کریں گے۔
ایسوسی ایشن کے سینیئر نائب چیئرمین جاوید جیلانی نے کہا کہ ایسوسی ایشن کے تخمینے کے مطابق پنجاب میں زیادہ سے زیادہ 6 سے 7 لاکھ ایکڑ اراضی متاثر ہوئی ہے، جس سے صوبے کی مجموعی چاول کی پیداوار پر صرف 10 تا 12 فیصد اثر پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں:
’یہ اعداد و شمار سرکاری اور غیر سرکاری دونوں سرویز سے مطابقت رکھتے ہیں، ہم 60 فیصد نقصان کے دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگرچہ کئی علاقوں میں سیلاب نے نمایاں نقصان پہنچایا ہے، لیکن زائد پانی ان علاقوں میں فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتا ہے جہاں پہلے پانی کی کمی تھی اور اس سے فی ایکڑ پیداوار بہتر ہونے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں:
بین الاقوامی منڈی کے حوالے سے جاوید جیلانی نے خبردار کیا کہ بھارت اس وقت کم قیمت پر چاول فروخت کر رہا ہے اور پاکستان کی فصل کے بارے میں منفی اور غلط رپورٹس غیر ملکی خریداروں کو پریشان کر سکتی ہیں۔
’ایسی غلط معلومات شکوک پیدا کر سکتی ہیں کہ آیا پاکستانی ایکسپورٹرز اپنے وعدے پورے کر سکیں گے یا نہیں، اس لیے انتہائی ضروری ہے کہ صرف درست اور تصدیق شدہ معلومات ہی شیئر کی جائیں۔‘
مزید پڑھیں:
جاوید جیلانی نے مزید کہا کہ پنجاب میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے اور امید ہے کہ سندھ بھی سیلابی پانی کو محفوظ طریقے سے سنبھال لے گا۔
ریلیف سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ارکان متاثرہ خاندانوں اور کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور جہاں ضرورت ہوگی امداد و تعاون فراہم کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایکڑ اراضی پنجاب جاوید جیلانی چاول چاول کی پیداوار رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ریلیف سیلاب فصل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکڑ اراضی جاوید جیلانی چاول چاول کی پیداوار رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ریلیف سیلاب جاوید جیلانی ایسوسی ایشن چاول کی کہا کہ کی فصل
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔