کیا سیلاب کے بعد کھانے پینے کی اشیا کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
ملک بھر میں رواں سال مون سون بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر سیلاب نے تباہی مچائی، جس سے انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں، فصلوں اور دیگر اشیا کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
دریائے ستلج اور چناب اس وقت سیلاب کی لپیٹ میں ہیں جس کے باعث وسیع زرعی علاقے زیرِ آب آچکے ہیں۔ ان علاقوں میں گندم، کپاس، چاول، سبزیاں، چارہ اور کئی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہو سکتی ہے اور قیمتوں میں 30 سے 150 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب کے باعث کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں کتنے اضافے کا خدشہ؟
ذرائع وزارت غذائی تحفظ کے مطابق حالیہ سیلاب کے باعث دریاؤں کے اطراف 7 کلومیٹر کے علاقوں میں چاول اور کپاس کی فصل کو انتہائی نقصان پہنچا ہے، رواں سال کپاس اور چاول کی فصل شدید متاثر ہونے اور چاول کے بحران کا بھی خدشہ ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پیداوار کم ہونے کے باعث چاول درآمد بھی کیا جا سکتا ہے، سیلابی ریلوں میں چونکہ ریت اور دیگر گندگی بھی پانی کے ساتھ زمینوں میں آ گئی ہے، جس وجہ سے آئندہ سال بھی فصلوں کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔
اجناس کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے، چیئرمین پاکستان کسان اتحادچیئرمین پاکستان کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے انکشاف کیا ہے کہ قریباً 30 سے 35 ہزار گاؤں سیلاب کی نذر ہوچکے ہیں جبکہ 20 سے 25 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دریائے ستلج کے ہیڈ اسلام پر بڑھتے سیلابی ریلے نے قریبی بستیاں اور ہزاروں ایکڑ کھڑی فصلیں اجاڑ دی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کپاس، دھان، تِل، مکئی اور چارہ کی فصل کو 50 فیصد تک نقصان پہنچا ہے۔ اس نقصان سے ان اجناس کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے جبکہ مارکیٹ میں قلت پیدا ہونے کا بھی امکان ہے۔
خالد حسین باٹھ کے مطابق سب سے بڑا بحران گندم اور آٹے کا آنے والا ہے۔ چند دنوں میں گندم کی قیمت 2100 روپے سے بڑھ کر 3500 روپے فی من تک جا پہنچی ہے اور مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ گندم کی نئی فصل آنے میں ابھی قریباً 8 ماہ باقی ہیں۔ سیلاب کے باعث لوگوں کا ذخیرہ کیا ہوا اناج بھی خراب ہوگیا ہے۔
’ملک میں گندم کا قحط پڑنے کا خدشہ‘انہوں نے خبردار کیاکہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک میں گندم کا قحط پڑ سکتا ہے اور روٹی کی قیمت 30 سے 40 روپے تک جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھروں اور فصلوں کا نقصان پورا کریں گے، سیلاب زدگان اپنی جانوں کی حفاظت کریں، وزیراعلیٰ پنجاب
سیلاب کے باعث چونکہ گوداموں میں بھی پانی بھر گیا ہے، اس وجہ سے جو گندم اسٹور کی گئی تھی وہ بھی کافی متاثر ہوئی ہے اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں موجود فلور ملز کو پنجاب سے گندم کی ترسیل بند ہوگئی ہے۔
خیبر پختونخوا کی فلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب ہمیں گندم نہیں دے گا تو ہمارے صوبے میں آٹے اور روٹی کی قلت ہو جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پنجاب سیلاب غذائی بحران کا خدشہ فصلیں تباہ گندم کی قیمت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیلاب غذائی بحران کا خدشہ فصلیں تباہ گندم کی قیمت وی نیوز سیلاب کے باعث اضافے کا خدشہ قیمتوں میں فیصد تک خدشہ ہے گندم کی
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں