ضلعی راولپنڈی انتظامیہ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے روات کے قریب واقع ایک فیڈ مل سے 6 ہزار ٹن سے زائد گندم برآمد کرلی، جبکہ فیڈ مل کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے مطابق یہ کارروائی پنجاب بھر میں جاری اس مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت فیڈ ملز میں گندم کے غیرقانونی استعمال پر دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے مرغیوں کی خوراک کے لیے گندم کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے، تاکہ خوراک کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ پنجاب کی مختلف فیڈ ملز میں مرغی دانہ بنانے کے لیے 1 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم ذخیرہ کی گئی تھی، جو کہ موجودہ حالات میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال کے معمول پر آنے تک گندم کی ذخیرہ اندوزی اور غیرقانونی استعمال کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا تاکہ عوام کو خوراک کی قلت سے محفوظ رکھا جا سکے۔

Post Views: 7.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود