روات کے قریب ذخیرہ کی گئی 6 ہزار ٹن سے زائد گندم برآمد، فیڈ مل سیل
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
ضلعی راولپنڈی انتظامیہ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے روات کے قریب واقع ایک فیڈ مل سے 6 ہزار ٹن سے زائد گندم برآمد کرلی، جبکہ فیڈ مل کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے مطابق یہ کارروائی پنجاب بھر میں جاری اس مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت فیڈ ملز میں گندم کے غیرقانونی استعمال پر دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے مرغیوں کی خوراک کے لیے گندم کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے، تاکہ خوراک کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ پنجاب کی مختلف فیڈ ملز میں مرغی دانہ بنانے کے لیے 1 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم ذخیرہ کی گئی تھی، جو کہ موجودہ حالات میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال کے معمول پر آنے تک گندم کی ذخیرہ اندوزی اور غیرقانونی استعمال کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا تاکہ عوام کو خوراک کی قلت سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔