باغ میں ڈیجیٹل انقلاب، نوجوانوں کی خودکفالت میں سافٹ ویئر ہاؤس کا اہم کردار
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
آزاد کشمیر کا ضلع باغ جو اپنے دلکش قدرتی مناظر اور تعلیمی ترقی کے باعث شہرت رکھتا ہے، اب ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔
اس تبدیلی میں اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے تعاون سے قائم کیا گیا پہلا سافٹ ویئر ہاؤس کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت علاقے کے نوجوانوں کو ایسی جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جن کی مدد سے وہ فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے ذریعے نہ صرف روزگار کے مواقع حاصل کر رہے ہیں بلکہ ملکی ڈیجیٹل معیشت میں بھی حصہ ڈال رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: باغ کے انجینیئر خرم خلیل کا اے آئی پر انقلابی تحقیقی مقالہ میونخ عالمی کانفرنس کے لیے منظور
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے باغ اور گرد و نواح کے طلبہ و طالبات کو ہنر مند بنانے کے ساتھ ساتھ برین ڈرین کی شرح میں بھی کمی واقع ہو گی، کیونکہ اب نوجوان اپنے علاقے میں ہی روزگار کما سکیں گے۔
مقامی نوجوانوں نے اس منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سافٹ ویئر ہاؤس کے قیام سے انہیں عالمی مارکیٹ تک رسائی ملی ہے اور وہ پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر میں نمایاں کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایسے اقدامات دوسرے اضلاع میں بھی کیے جائیں تو آزاد کشمیر کو ڈیجیٹل پاکستان کے وژن میں نمایاں مقام دلایا جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر میں ڈیجیٹل انقلاب اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن باغ میں ڈیجیٹل انقلاب سافٹ ویئر ہاؤس ضلع باغ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا زاد کشمیر میں ڈیجیٹل انقلاب اسپیشل کمیونیکیشن ا رگنائزیشن باغ میں ڈیجیٹل انقلاب سافٹ ویئر ہاؤس میں بھی
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔