data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری)جسارت میڈیا گروپ کے زیر اہتمام ٹیم جسارت ڈیجیٹل میڈیا کے اعزاز میں گزشتہ روز جسارت کے دفتر میں تقریب پذیرائی کا انعقاد کیا گیا ۔تقریب کے مہمان خصوصی منتظم اعلیٰ جسارت ڈاکٹر عبد الواسع اور مدیر اعلیٰ شاہنواز فاروقی تھے۔

تقریب پذیرائی سے جسارت کے چیف آپریٹنگ آفیسر سید طاہر اکبر، اسائمنٹ ایڈیٹر محمد عرفان احمد ، کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے سابق صدر حامد الر حمن اعوان ،جسارت ویب کے انچارج سید نذیر الحسن اور معروف تجزیہ کار ندیم مولوی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔تقریب میں جسارت ڈیجیٹل ٹیم کے ان تمام افراد کو حسن کارکردگی کا سرٹیفیکٹس اور نقد انعامات سے نوازا گیا جنہوں نے جسارت ڈیجیٹل میڈیا کے لیے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔

 

تقریب پذیرائی میں جسارت کی ٹیم میں حسن کارکردگی کامظاہرہ کرنے والوں میں جسارت ویب کے انچارج سیدنذیر الحسن، جسارت مارکیٹنگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سید فاضل نقوی،چیف رپورٹر قاضی جاوید باسط،ڈپٹی چیف واجد حسین انصاری،سینئر رپورٹر منیر عقیل انصاری،محمد علی فاروق، ندیم مولوی، سید حسن احمد، جہانگیر سید، اسرہ غوری،فیض عالم بابر،متین فاروقی،اے اے سید،قمر خان،نوید فاروق،کاشف حیدر علی، سید محمد سعد،عارف رمضان جتوئی،عبد الصمد، ملک محمدطیب ،سید محمد وقاص،قاسم جمال سمیت دیگر شامل تھے۔

اس موقع پرجسارت کے منتظم اعلیٰ ڈاکٹر عبد الواسع نے شرکاءسے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو میں جسارت ڈیجیٹل کی پوری ٹیم کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں جس طرح سے آپ لوگوں نے جسارت میڈیا گروپ کو آگے بڑھانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے جسارت کی ٹیم نے تمام تر مشکلات کے باوجود اپنے کام کوبہتر انداز میں جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے اس جدید دور میں آپ سب کو ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق دورے جدید کے استعمال کو سیکھنا چاہیے اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فورم کو استعمال کرتے ہوئے اپنی خبروں کو پھیلانے چاہیے تاکہ جسارت میں شائع ہونے والی خبریں دنیا بھر کے لوگ آسانی سے پڑھ سکے۔

منتظم اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جسارت میں کام کرنے والے رپورٹر، سب ایڈیٹر، نیوز ایڈیٹر اور دیگر تمام لوگوں کو جسارت ڈیجیٹل کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے،ا نہوں نے کہا کہ میں دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی گیا ہوں اور لوگوں سے معلومات حاصل کی ہے تو پتا چلا کے زیادہ تر بیرون ممالک کے لوگ جسارت کی خبریں آن لائن بہت زیادہ شوق سے پڑھتے ہیں، جسارت کے کارکنان کی اسکیلز میں اضافہ کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال کو سیکھا جائے اور جسارت تمام کارکنان کے مصنوعی زہانت کے حوالے ورکشاپ منعقد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس میں ہونی والی نئی نئی جہتوں کو سیکھ کر اپنے کام میں نکھار پیدا کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا اکہ آج کے دور میں جدید صحافت کے روجہانات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، جسارت ایک نظریاتی اخبار ہے ہمیں عبادت سمجھ کر اس کے لیے جدوجہدکرنا چاہیے تاکہ ہم تمام لوگ دنیا و آخرت دونوں جگہ کامیابی حاصل کرسکے۔

تقریب گفتگو کرتے ہوئے سید طاہر اکبر نے کہاکہ انسان اپنی زندگی کا ایک ہدف بنائے اور پھر اس حدف کو پورا کرنے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کو سہارا بنائے کیونکہ جب ہدف متعین ہوگا توڈیجیٹل میڈیا کا استعمال اسی ہدف کی تکمیل کے لئے ہوگا۔

محمد عرفان احمدنے کہاکہ آج کے ڈیجیٹل آلات اور میڈیا نے انسان کے محدود خیالات کو نہایت وسعت دی ہے،گویا ڈیجیٹل میڈیا کی صورت میں معاشرے کو ایک ترجمان مل گیا جو آپ کی بات،خیال ،نظریے اور فکر کو ایک ساعت میں ساری دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔

حامد الر حمن اعوان کا کہنا تھا کہ آج مجھے بہت زیادہ خوشی محوس ہورہی ہے کہ جس ادارے سے میں نے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا آج وہ ادارہ اپنی ٹیم کے ساتھ ڈیجیٹل میڈیا میں داخل ہوگیا ہے مجھے امید ہے جسارت انتظامیہ اپنے کارکنان کے مسائل کو سمجھتے ہوئے مزید ترقی کے منازل طے کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں جب پرنٹ میڈیا محدود ہوتا جارہا ہے ایسے میں جسارت اخبار تمام تر مسائل اور اپنے محدود وسائل کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے میں جسارت کی ٹیم اور اس کی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،جسارت سے وابستہ لوگوں کو چاہیے کے آپ کی جو بھی کوشش ہو وہ اس ادارے کو مزید بہتری کے لیے ہو

اس موقع پرسید نذیر الحسن نے کہاکہ آج جس قدر بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہیں ،سائٹس اور اپلی کیشنز ہیں وہ انسان کی اسی طرح معاون بنی ہوئی ہیں بلکہ آنے والے دنوں میں ان کی اہمیت اور افادیت کے زیادہ امکان اور مواقع موجود ہ۔

ندیم مولوی نے کہاکہ جسارت صرف اخبار نہیں ہے یہ ایک نظریاتی اخبار ہے،میری نیک تمنائیں جسارت کے ساتھ ہے اور مجھے امید ہے کہ جسارت ڈیجیٹل بھی میڈیا انڈسٹری میں ترقی کی راہ پر مزید گامزن ہوگا اور معاشرتی مسائل کو بہتر طریقے سے اجاگر کرنے میں معاون ومدد گار ثابت ہوگا ۔ آخر میں تقریب پذیرائی کے ا ختتام پر معزز مہمانوں اور شرکاءکے لیے لذتِ کام و دہن کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جسارت ڈیجیٹل ڈیجیٹل میڈیا کا کہنا تھا جسارت کی جسارت کے کہ جسارت نے کہاکہ کہ آج کے کے لیے

پڑھیں:

ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا

ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔

ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔

Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN

— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026

اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘

دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔

تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی