امیتابھ بچن کی نواسی نے فلموں سے فاصلہ کیوں رکھا ؟ خود وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن کا خاندان فلمی دنیا میں اپنی ایک مضبوط پہچان رکھتا ہے۔ ان کے بیٹے ابھیشیک بچن، بہو ایشوریا رائے بچن اور اہلیہ جیا بچن سبھی کامیاب اداکار ہیں۔ نئی نسل میں جہاں ان کے نواسے اگستیہ نندا نے اداکاری کے میدان میں قدم رکھا ہے، وہیں ان کی بہن نویہ نویلی نندا نے ایک مختلف راستہ چُنا۔
اگرچہ نویہ نے خود کو فلمی دنیا سے دور رکھا ہے، مگر وہ اپنے منفرد نظریے، بزنس وژن اور سماجی کاموں کے باعث آج اپنی الگ شناخت بنا چکی ہیں۔ ان سب باتوں سے قطع نظر مداحوں کے ذہنوں میں اکثر یہ سوال ابھرتا ہے، آخر ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود نویہ نے فلموں کا راستہ کیوں نہیں اپنایا؟
نویہ نویلی نندا نے حال ہی میں موجو اسٹوری پر گفتگو کے دوران کھل کر بتایا کہ انہوں نے فلموں میں کام کیوں نہیں کیا؟
انہوں نے کہا، ’مجھ سے اکثر یہ پوچھا جاتا ہے کہ میں نے فلموں میں قدم کیوں نہیں رکھا، لیکن سچ یہ ہے کہ مجھے ہمیشہ یہ سکھایا گیا ہے کہ اگر کسی کام میں آپ کا دل، جذبہ اور یقین سو فیصد شامل نہ ہو، تو اسے کبھی نہ کریں۔ اداکاری کے لیے میرا دل کبھی نہیں دھڑکا۔ میں ہمیشہ اپنے والد کے کام سے متاثر رہی ہوں۔ وہ جب دفتر سے واپس آتے تو میں ان کے ساتھ بزنس پر بات کرتی تھی اور یہ سب مجھے بہت دلچسپ لگتا تھا۔‘
نویہ نے بتایا کہ ان کی دلچسپی ہمیشہ کاروبار اور سماجی ترقی کے شعبوں میں رہی ہے، نہ کہ اداکاری میں۔
انہوں نے مزید کہا ، ’میں فلمیں دیکھنا اور موسیقی سننا پسند کرتی ہوں، لیکن کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ مجھے کیمرے کے سامنے ہونا چاہیے۔ میری توجہ اور دلچسپی ہمیشہ بزنس سے جڑی رہی۔‘
نویہ نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کی فلمی وراثت پر فخر محسوس کرتی ہیں، لیکن ان کی خواہش ہے کہ انہیں ان کے خود کے کام سے پہچانا جائے۔
’میں فلم انڈسٹری کا احترام کرتی ہوں، کیونکہ یہ میرے خاندان کا ایک بڑا حصہ ہے۔ لیکن میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ میرا جذبہ کسی اور سمت ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ لوگ مجھے میری محنت، میری سوچ اور میرے کام کے لیے یاد رکھیں، نہ کہ صرف اس لیے کہ میں بچن خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔‘
نویہ نویلی نندا آج کی نوجوان نسل کے لیے ایک مثال بن چکی ہیں۔ ایک ایسی لڑکی جو روایت سے ہٹ کر اپنی راہ خود بنا رہی ہے۔ چاہے وہ بزنس کی دنیا ہو یا سماجی خدمت کا میدان، نویہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اصل کامیابی وہی ہے جو اپنے دل کی راہ پر چل کر حاصل کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔