شہباز شریف حکومت نے صرف 16 ماہ میں 13 ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ کر کے قرضوں میں اضافے کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 ستمبر2025ء ) شہباز شریف حکومت نے صرف 16 ماہ میں 13 ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ کر کے قرضوں میں اضافے کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے, مارچ 2024 سے جون 2025 کے عرصے میں مرکزی حکومت کے مقامی قرضوں میں 11,796 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں میں 1,282 ارب روپے کا اضافہ ہواوفاقی حکومت نے صرف ایک ماہ کے دوران 1800 ارب روپے سے زائد کا قرضہ لے لیا، جتنا قرضہ 74 سالوں میں لیا گیا، اس کا 80 فیصد صرف ساڑھے 3 سالوں میں لے لیا گیا، پی ڈی ایم، نگران اور شہباز حکومت نے ملکی قرضوں میں ساڑھے 34 ہزار ارب روپے کا اضافہ کر ڈالا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ ساڑھے 3 سالوں میں ملک کو قرضوں کے ہوشربا بوجھ تلے دبا کر قرضوں میں اضافے کے تمام ریکارڈ توڑ دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔(جاری ہے)
اس حوالے سے مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخواہ مزمل اسلم نے انکشاف کیا ہے کہ کیسے ملک کی معیشت اچھی ہو رہی ہے جبکہ صرف ایک ماہ میں شہباز شریف حکومت نے 1830 ارب روپے کا قرض اٹھا لیا؟ مجموعی طور پر پاکستان کا قرض78,000 ارب کے قریب آچکا ہے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخواہ نے کہا ہے کہ سوا تین سال میں شھباز شریف نے اب تک 34,500 ارب قرض لے چکے ہیں جب شہباز شریف حکومت میں آئے تھے تو 43500 ارب روپے ملک کا قرض تھا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخواہ نے کہا کہ شہباز شریف ملکی قرض کم کرنے آئے تھے مگر آج قرض لینے کی تاریخ رقم کر دی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ شہباز حکومت کے دوران ملک کی مجموعی قرض میں 79 فیصد کا اضافہ ہوا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخواہ نے کہا کہ جو قرض ملک چلانے کے لئے 75 سال میں لیا اس کا 80 فیصد ساڑھے 3 سالوں میں لے لیا گیا، ان ساڑھے 3 سالوں میں ملک میں ترقیاتی کاموں کی ایک اینٹ بھی نہیں لگی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حالت یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک مارکیٹ سے ڈالر خرید رہا ہے اور سرمایہ کاری تو چھوڑیں کوئی قرض بھی نہیں دے رہا، روزانہ ایک ایم او یو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے۔ .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شہباز شریف حکومت نے کہا کہ حکومت نے ارب روپے کا اضافہ کا قرض
پڑھیں:
پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
فوٹو: فائلپبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش کردی اور ہدایت کی ہے کہ تمام ڈسکوز ملازمین کو تنخواہوں کی ڈیجیٹل ادائیگی یقینی بنائیں۔
پی اے سی اجلاس کے دوران سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی بنانے اور تقسیم کے کاروبار سے نکل رہی ہے۔ تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر مقرر کر رہے ہیں۔ حکومت صرف ٹیسکو اور کیسکو کو اپنے پاس رکھے گی۔ کابینہ کا فیصلہ ہے کہ ٹیسکو اور کیسکو کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔
سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ 2027 کے آغاز میں تین ڈسکوز کی نجکاری مکمل ہوجائے گی۔ گیپکو، فیسکو اور آئیسکو کی نجکاری 2027 کے آغاز میں ہوجائے گی، تمام ڈسکوز کی نجکاری تیزی سے ہوگی۔