جنگ بندی کو علاقائی امن و استحکام کے مفاد میں قبول کیا ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے لکھا کہ ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور خطے میں امن کے لیے فعال کردار کے لیے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس موقع پر سہولت فراہم کرنے پر امریکا کو سراہتا ہے اور ہم نے جنگ بندی کو علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں قبول کیا ہے۔
وزیراعظم نے نائب امریکی صدر صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ان کی گرانقدر خدمات انجام دیں۔
شہباز شریف نے مزید لکھا کہ پاکستان کا خیال ہے کہ جنگ بندی مسائل کے حل میں ایک نئی شروعات کی نشاندہی ہے، جس کے بعد امن، خوشحالی اور استحکام کا سفر شروع ہوگا۔
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
معیشت بتدریج استحکام کی راہ پر گامزن: وزارت خزانہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزارت خزانہ نے نومبر کی ماہانہ آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی۔ وزارت خزانہ نے نومبر میں مہنگائی کی شرح 5 سے 6 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہرکردیا اور کہا کہ خوراک کی قیمتوں، زرعی پیداوار کے دباؤ سے مہنگائی بڑھنے کا امکان ہے۔ پاکستان کی معاشی صورتحال محتاط طورپر مثبت دکھائی دے رہی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری جاری ہے۔ معاشی اصلاحات کے نفاذ سے اقتصادی سرگرمیوں میں استحکام آرہا ہے۔ زرعی شعبے کا مجموعی منظرنامہ ملا جلا رجحان ظاہر کررہا ہے اور مناسب زرعی اِن پْٹس کی دستیابی سے صورتحال بہتر ہونے کی توقع ہے۔ ربیع سیزن کے دوران زرعی سپلائی کے استحکام کا امکان ہے۔ معیشت بتدریج استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ مالی نظم وضبط میں بہتری اور محصولات میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی اخراجات میں محتاط حکمت عملی برقرار رہے گی۔ ترسیلات زر میں اضافہ، معاشی صورتحال مزید مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔ بڑی صنعتوں اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ ملکی قرضہ 1371 ارب روپے کم ہوگیا۔ پانچ سال بعد پہلی بار ایک سہ ماہی میں قرض میں نمایاں کمی ہوئی۔ مہنگے قرضوں کی قبل ازوقت ادائیگی سے مالی خطرات میں کمی کا امکان ہے۔ اقتصادی استحکام کیلئے حکومت کی حکمت عملی مؤثر ثابت ہورہی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ متوقع حد کے اندر برقرار ہے۔ برآمدات میں مستقل اضافہ اور ترسیلات زر مضبوط رہیں۔ پیداوار کیلئے درآمدی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن سے بہتری کا امکان ہے۔ گورننس میں بہتری کے اقدامات جاری ہیں۔ مالیاتی نظم و ضبط اور استحکام کی کوششیں برقرار ہیں۔ بڑی صنعتوں کی شرح نمو رواں سال جولائی تا ستمبر4.1 فیصد رہی۔ ستمبر 2025ء میں بڑی صنعتوں کی شرح نمو سالانہ بنیاد پر 2.7فیصد، ماہانہ بنیاد پر 2.1 فیصد رہی۔