ہم نے سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، سیز فائر کیلئے بھارت نے امریکہ سے رابطہ کیا، پاک فوج
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
پریس کانفرنس میں موجود ائروائس مارشل اورنگزیب نے فضائی محاذ پر ہونے والے کامیاب آپریشنز کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو چھ صفر سے شکست دی، دشمن کے ڈرون سسٹمز کو جام کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم نے سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، سیز فائر کیلئے بھارت نے امریکہ سے رابطہ کیا، ہماری جوابی کارروائی کے بعد ہی بھارت نے جنگ بندی کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور پیشہ ورانہ فوج رکھتا ہے، جو وعدوں کی پاسداری کرتی ہے، لیکن اگر دشمن نے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی تو ہم بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پریس کانفرنس میں موجود ائروائس مارشل اورنگزیب نے فضائی محاذ پر ہونے والے کامیاب آپریشنز کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو چھ صفر سے شکست دی، دشمن کے ڈرون سسٹمز کو جام کیا گیا، جبکہ براہموس میزائلوں کا رخ موڑنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ ایک میزائل تو خود بھارت کے پڑوسی ملک میں جا گرا، جس سے بھارت نے اپنے ہمسایوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔
پاک بحریہ کے وائس ایڈمرل رب نواز نے انکشاف کیا کہ نومئی کو بھارتی نیوی کا وکرانت بحری جہاز آٹھ سے بارہ مگ 29 طیاروں کے ساتھ پاکستانی ساحل سے صرف 400 ناٹیکل میل دور تھا، لیکن ہماری مسلسل نگرانی اور تیاریوں کی وجہ سے کراچی کو لاحق ممکنہ خطرے کا مکمل تدارک کر لیا گیا تھا۔ پریس کانفرنس کے دوران ”آپریشن بنیان مرصوص“ کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھی گئیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ پاکستان نے بھارت میں 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں دہلی کے قریب براہموس میزائل ذخیرہ گاہ بھی شامل تھی۔ انڈین فوج کو سفید جھنڈا لہرانے پر مجبور کر دیا گیا، یہ ہماری جدید ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ ہم نے عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، حملے انتہائی مہارت سے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اور بھارتی میڈیا نے بھی ان حملوں کی تصدیق کی ہے، عام آبادی کو نقصان نہیں پہنچایا گیا، ہمارے معمولی انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور ایک طیارہ متاثر ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیز فائر کی بھارت نے کہا کہ کہ پاک
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔