بھارت کا گھمنڈ خاک میں مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
جس کا خدشہ تھا، وہی ہوا۔ بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان پر حملہ کر دیا۔ پنجاب اور آزاد کشمیر کے 6 مقامات کو نشانہ بنایا اور 24 میزائل فائر کئے۔ جس سے 26 سے زائد معصوم شہری شہید اور 46 زخمی ہو گئے۔جن میں بچے، بزرگ اور خواتین بھی شامل ہیں۔7 مئی کی صبح جب لوگ سو کر اٹھے تو انہیں بھارت کے اس بزدلانہ حملے کا علم ہوا۔پاکستان اور بھارت اگرچہ دو ہمسایہ ملک ہیں لیکن ان کے مابین گزشتہ سات دہائیوں سے کبھی اچھے تعلقات نہیں رہے۔ یہ سچ ہے کہ ہمسائے کبھی نہیں بدلے جاتے۔ لیکن شاید بھارت پر حکمرانی کرنے والوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں۔پہلگام مقبوضہ کشمیر کا سیاحتی مقام ہے۔ جو کنٹرول لائن سے 250 کلو میٹر دور ہے۔ 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تو بھارت نے کسی ثبوت کے بغیر اس کا الزام پاکستان پر لگا دیا۔ وقوعہ کو جواز بناتے ہوئے بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان پر حملے کی منصوبہ بندی کی۔تاہم پاکستان پہلے ہی سے باخبر تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے۔اس کے پاس انٹیلی جنس اطلاعات تھیں کہ بھارت، پاکستان پر فضائی حملے کرے گا۔ جس میں میزائل ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔ قبل ازیں 2 مئی کو بھی اس نے ایک ایسی ہی کوشش کی۔ اس کے چار رافیل طیارے فضا میں بلند ہوئے۔ لیکن ہمارے ریڈار سسٹم نے انہیں دیکھ لیا اور پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی اپنے ٹیکنالوجی سسٹم سے ان کے کمیونیکشن سسٹم کو بلاک کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارتی جہازوں کا باہمی اور زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ انہیں بالآخر مایوس و نامراد واپس سری نگر ائیرپورٹ پر اترنا پڑا۔ واضح رہے کہ رافیل کا شمار دنیا کے جدید ترین لڑاکا طیاروں میں ہوتا ہے۔ یہ وہ طیارے ہیں جن پر بھارت کو بہت غرور اور ناز تھا۔ خود چند سال پہلے نریندر مودی نے کہا ہمارے پاس رافیل آ گئے تو بھارتی فضائیہ پاکستان پر برتری حاصل کر لے گی۔ بعد ازاں رافیل تیار کرنے والی فرانسیسی کمپنی سے بھارت نے بھی طیاروں کی خریداری کا سودا طے کیا۔ 6 اور 7 مئی کی شب ہونے والے معرکے نے رافیل کا سارا بھرم توڑ کر رکھ دیا۔ پاکستانی جنگی طیاروں نے وہ تاریخ رقم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گئے۔اگرچہ بھارتی جنگی جہاز پاکستانی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوئے اور انہوں نے اپنی ہی فضائی حدود سے مخصوص اہداف پر میزائل فائر کئے۔ جن سے مساجد اور شہری املاک نشانہ بنیں۔میزائل حملوں سے مظفر آباد، کوٹلی، سیالکوٹ، احمد پور شرقیہ، شکر گڑھ اور مریدکے میں کئی شہری جان سے گئے اور زخمی بھی ہوئے۔ ان میزائل حملوں میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو بھی جزوی نقصان پہنچا جبکہ پاکستانی ائیر فورس نے اپنی فضائی حدود میں رہتے ہوئے جب جوابی کارروائی کی تو تین رافیل اور دو مگ 29 بھارتی طیارے مار گرائے۔جن کے ٹکڑے سری نگر اور اس کے گردونواح میں دیکھے گئے۔
عالمی میڈیا نے پاکستان کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ان بھارتی طیاروں کی ویڈیوز اور تصاویر بھی جاری کی ہیں جو پاکستان کی فتح کی نوید سناتی دکھائی دیتی ہیں۔ بھارت کو اس معرکے میں جو ہزیمت اٹھانا پڑی وہ ساری دنیا نے دیکھی، خود بھارت کے لیئے یہ ہزیمت بہت بڑی شرمندگی کا باعث بن گئی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھارتی جارحیت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اس حملے کا جواب کب اور کیسے دینا ہے،وقت اور جگہ کا تعین ہم خود کریں گے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے پاک فوج نے بھارتی حملے کا بھرپور جواب دیا۔ اس کے پانچ طیارے اور دو ڈرون مار گرائے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت کی کئی اہم چیک پوسٹوں کو بھی تباہ کیا گیا جبکہ جوابی کارروائی میں ایک بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو بھی پاک فوج نے نشانہ بنایا۔وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ رافیل طیاروں کے گرائے جانے سے بھارت کے اوسان خطا ہو گئے ہیں اور وہ سخت پریشانی اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔تاہم پاکستان جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ہم بھارت کو اس بزدلانہ حملے کا سبق سکھائیں گے۔بتایا جاتا ہے کہ گوجرانوالہ میں جمعرات کی صبح دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد کینٹ کے علاقے میں نصب ائیر ڈیفنس سسٹم متحرک ہو گیا جس نے ایک بھارتی ڈرون کو مار گرایا۔عسکری ذرائع کے مطابق دھماکوں کی آوازیں اس وقت سنائی دیں جب ایک بھارتی ڈرون انتہائی اونچی پرواز کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہوا۔جسے گوجرانوالہ کینٹ کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے ضروری کارروائی کرتے ہوئے مار گرایا۔عسکری ذرائع کے مطابق یہ کارروائی گوجرانوالہ کینٹ کے قریب کی گئی۔6 اور 7 مئی کی شب ہونے والے بھارتی بزدلانہ حملے نے اس کے ان دعوں کی قلعی کھول دی ہے کہ وہ خطے میں بہت بڑی فوجی قوت ہے۔ حالیہ ہزیمت کے بعد بھارت کی فوجی قوت کا گراف تیزی سے نیچے آیا ہے جبکہ پاکستان کی فوجی برتری بھارت جیسے بڑے اور پانچ گنا زیادہ عسکری قوت رکھنے والے ملک پر حاوی نظر آتی ہے۔پاکستان میں جو سیاسی عدم استحکام تھا۔ بھارت کے اس بزدلانہ حملے کے بعد وہ بھی استحکام کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیا۔ تمام سیاسی جماعتوں بشمول پی ٹی آئی نےسیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ ہم نے جو کامیابی حاصل کی اس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ افواج پاکستان نے ناصرف دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ دنیا کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان ناقابل تسخیر ملک ہے۔ جس نے بھی اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا اسے نیست و نابود کر دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بزدلانہ حملے اور 7 مئی کی پاکستان پر بھارت کے کہ بھارت بھارت کو بھارت نے حملے کا کو بھی
پڑھیں:
ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔
اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔
میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔
اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔
میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔
ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔
بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔
اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔
اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟
یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔
اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔
ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔
وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘