پاکستان نے سائبر ہتھیاروں کا 10 فیصد سے بھی کم حصہ استعمال کیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایک سینئر دفاعی ذریعے کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جوابی حملے میں اپنے سائبر ہتھیاروں کا صرف 10؍ فیصد سے بھی کم حصہ استعمال کرکے بھارت کو زبردست نقصان پہنچایا۔ پاکستان نے اپنی سائبر وارفیئر صلاحیتوں کا دسواں حصہ استعمال کیا اور اس سے پہنچنے والے دھچکے سے خود کو عالمی آئی ٹی مرکز سمجھنے اور اس پر ناز کرنے والا ملک بھارت ہل کر رہ گیا۔ پاکستان کے جوابی حملے نے بھارت کو کئی محاذوں پر حیران کر دیا لیکن سب سے زیادہ تباہی ایسی تھی جو نظر نہ آنے والی تھی۔ سیکورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے میزائل حملے سے قبل ہی بھارتی اسٹاک مارکیٹس میں صرف 48؍ گھنٹوں میں 6900؍ ارب بھارتی روپے (83؍ ارب ڈالرز) ڈوب گئے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ نفٹی 500؍ کی حالت بری ہوگئی، ریلائنس کے شیئرز 2.
انصار عباسی Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان نے پاکستان کی اور اس
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔