ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری 12 روزہ شدید لڑائی کے بعد جنگ بندی کے اعلان نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں فوری ردِعمل پیدا کیا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ حالیہ مہینوں میں سب سے نمایاں گراوٹ ہے۔

قیمتوں میں نمایاں کمی

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 10 فیصد کمی کے بعد 69 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔

امریکی مارکیٹ میں ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل کی قیمت کم ہو کر 66 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، جنگ بندی کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی کے تعطل کا خطرہ وقتی طور پر ختم ہو گیا ہے، جس کے باعث مارکیٹ سے ’جیو پولیٹیکل رسک پریمیم‘ ہٹ گیا۔

مارکیٹ پر اثرات

سرمایہ کاروں نے تیل کی مستقبل کی خریداری (futures) میں کمی دکھائی، جس سے قیمتیں فوری نیچے آئیں۔

توانائی سے وابستہ اسٹاکس بھی دباؤ کا شکار رہے، جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک میں اسٹاک مارکیٹس میں بہتری آئی ہے۔

جغرافیائی استحکام کا عندیہ

بین الاقوامی برادری، بالخصوص امریکا، چین، اور یورپی یونین نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی سے عالمی مہنگائی پر بھی مثبت اثر پڑنے کی توقع ہے، جو کئی معیشتوں کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتا ہے۔

مستقبل کا جائزہ

ماہرین کے مطابق اگر جنگ بندی مستقل رہی اور کوئی نیا عسکری تصادم نہ ہوا، تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام آ سکتا ہے۔ تاہم، اگر دوبارہ کشیدگی بڑھی یا جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی، تو قیمتیں دوبارہ بڑھنے کا امکان موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران اسرائیل جنگ بندی تیل کی قیمتیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران اسرائیل جنگ بندی تیل کی قیمتیں تیل کی قیمتوں میں خام تیل کی

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی