امت مسلمہ متحد ہوکر عالمی سامراج کو مہ توڑ جواب دے‘مجلس وحدت المسلمین
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صدر علامہ سید باقر عباس زیدی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ جل رہا ہے۔خطے میں قیام امن ناگزیر ہوتا جارہا ہے۔عالمی سامراجی قوتیں میڈل ایسٹ کے خاتمے کی خواہاں ہیں۔عرب ممالک اورمسلم حکمرانوں کی بزدلی کی وجہ سے آج خطہ تیسری جنگ عظیم کی طرف جارہا ہے۔امت مسلمہ متحد ہوکر عالمی سامراج کو مہ توڑ جواب دے۔امریکہ کاایران پر بلاجواز جوہری تنصیبات پر خطرے کے الزامات لگا کر حملہ کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔آج اگر ایران تو کل انہیں الزامات کا سامنا ہمیں بھی کرنا ہوگا۔ ایرانی غیرت مند حکمرانوں و عوام کو سلام پیش کرتے ہیں۔ایران وہ واحدہ ملک ہے جو ظالم طاقتوں کے خلاف تنہا لڑرہا ہے۔ حکومت کا ایران و اسرائیل جنگ میں دوہرہ معیار ہے۔نواز حکومت جس امریکی صدر ڈونلد ٹرم کو امن کا نوبل انعام دے رہے ہیں جس کے ہاتھ غزہ کے معصوم بچوں کے خون سے رنگیں ہیں۔ٹرم انسانیت کا قاتل ہے۔بھارت،امریکہ و اسرائیل اس ملک کے کبھی خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ملکی خارجہ پالیسی غیرت و حمیت کے ساتھ ہونا چاہئے۔ملکی عوام ٹرم جیسے خونی درندے اوراسرائیل و بھارت کر ہمیشہ مردہ باد ہی کہیں گے۔ملکی حکمران امریکی کاسہ لیسی میں اپنی ملکی سالمیت کو خطرہ میں ڈال رہے ہے۔آج اگر یہ امریکہ کی وفاداریاں حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو کل ضرور اسرائیل کو تسلیم کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔ہمارے حکمران بزدل عرب ممالک کے حکمرانوں سے کم نہیں۔اسلام کے نام پر حاصل ہوا ملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نزدیک سپر پاور صرف خداوند کریم کی ذات ہے۔ حکمرانوں کو کس بات خوف ہے ملکی عوام بیدار ہیں ظالم غاصب اسرائیل اور اس کے حامی امریکہ کے ڈر وخوف کو توڑ دیں۔لاکھوں قربانیاں دیکر بنے والا ملک آج اْسی سامراج کے آگئے گھٹنے ٹیک رہا ہے۔ ملکی حکومت امریکی صدر کے خلاف جنگی جرائم پر عالمی عدالت میں مقدمہ قائم کروائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔