پاکستان دشمنی میں مبتلا بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹ بے نقاب، وزارتِ اطلاعات نے “انڈیا ٹوڈے” کا گمراہ کن پروپیگنڈا بےنقاب کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان دشمنی میں مبتلا بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہوگیا۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات نے بھارتی چینل “انڈیا ٹوڈے” کے گمراہ کن اور من گھڑت دعوؤں کا پردہ چاک کردیا۔
انڈیا ٹوڈے نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ افغان طالبان نے ایک پاکستانی داعش جنگجو کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں دہشتگرد نے بلوچستان میں لشکرِ طیبہ سے منسلک کیمپوں میں تربیت حاصل کرنے کا اعتراف کیا۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق کسی بھی مصدقہ طالبان یا سرکاری چینل نے ایسی کوئی ویڈیو جاری نہیں کی، جبکہ بھارت نے غیر مصدقہ ذرائع سے خبر شائع کرکے دیگر بھارتی اداروں سے بغیر تصدیق کے پھیلائی۔
وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور افغان طالبان کے ترجمان نے کسی پاکستانی داعش جنگجو کی گرفتاری یا اعتراف کی تصدیق نہیں کی۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارتی میڈیا ریاستی سرپرستی میں جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈا کے ذریعے پاکستان میں بدامنی اور دہشت گردی کے بیانیے کو فروغ دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔