سعودی کلب کی لیونل میسی کو پیشکش، رونالڈو کے ساتھ ایک ہی لیگ میں کھیلنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
کرسٹیانو رونالڈو کی سعودی پرو لیگ نے لیونل میسی کو سعودی کلب الاہلی میں شمولیت کی حیران کن پیشکش کردی۔ فٹبال شائقئن لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کے ایک ہی لیگ میں کھیلنے کے امکان پر پُرجوش ہیں۔
انٹر میامی کے ساتھ لیونل میسی کا موجودہ معاہدہ 2025ء کے اختتام پر ختم ہو رہا ہے اور اسی تناظر میں مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال جاری ہے، اس موقع پر الاہلی کی پیشکش نے فٹبال مداحوں میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔
اس پیشرفت نے دنیا بھر کے فٹبال شائقین کو پرجوش کر دیا ہے، جو ایک بار پھر دونوں لیجنڈری کھلاڑیوں کو ایک ہی لیگ میں آمنے سامنے دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔
یاد رہے کہ کرسٹیانو رونالڈو پہلے ہی سعودی کلب النصر کے ساتھ کھیل رہے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے مزید 2 سال کے لیے اپنا معاہدہ بڑھا لیا ہے۔
النصر نے 26 جون کو اس نئے معاہدے کی تصدیق کی، جس سے وہ 2026ء تک کلب کے ساتھ منسلک رہیں گے۔
ماضی میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ رونالڈو فیفا کلب ورلڈ کپ میں کسی اور ٹیم میں شامل ہوں گے، لیکن رونالڈو نے ان افواہوں کی تردید کر دی تھی، جس سے مداح مایوس ہوگئے تھے۔
تاہم اب میسی کو سعودی عرب لانے کی اس کوشش نے امید کی ایک نئی کرن پیدا کر دی ہے، اگرچہ الاہلی نے پیشکش کی تصدیق کی ہے، تاہم اب تک میسی کو دی جانے والی ممکنہ رقم یا مراعات کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی، لیکن یہ بات طے ہے کہ سعودی کلب میسی کو قائل کرنے کے لیے پرکشش ترین مالی پیکج کی پیشکش کر سکتا ہے۔
میسی اور رونالڈو دونوں ہی اب اپنی نگاہیں فیفا ورلڈ کپ 2026ء پر مرکوز کیے ہوئے ہیں، جو ان کے کیریئر کا ممکنہ آخری عالمی ٹورنامنٹ ہو سکتا ہے۔
اگر لیونل میسی سعودی پرو لیگ کا حصہ بن جاتے ہیں، تو یہ ناصرف فٹبال کی تاریخ کا یادگار لمحہ ہو گا بلکہ ایک بار پھر دنیا کو میسی بمقابلہ رونالڈو کا کلاسک مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لیونل میسی سعودی کلب میسی کو کے ساتھ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم