وزیراعظم شہباز شریف کا آذربائیجان اور آرمینیا کے تاریخی امن معاہدے پر خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان وائٹ ہاؤس سمٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سنگ میل جنوبی قفقاز میں امن، استحکام اور تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جو کئی دہائیوں کے تنازع اور انسانی المیے سے گزرا ہے۔
Pakistan welcomes the historic peace agreement signed between the Republic of Azerbaijan and the Republic of Armenia at the White House Summit under the auspices of U.
This landmark development marks the dawn of a new era of peace,…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) August 9, 2025
شہباز شریف نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دانشمندی اور دوراندیشی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ برادر ملک آذربائیجان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور اس تاریخی موقع پر بھی ان کے ساتھ ہے۔
مزید پڑھیں: آذربائیجان اور آرمینیا نے امن معاہدے پر دستخط کر دیے، ٹرمپ نوبیل امن انعام کے لیے نامزد
وزیراعظم نے معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ معاہدہ تجارت، روابط اور علاقائی انضمام کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مکالمے کی یہ روح دیگر خطوں کے دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے بھی مثال بنے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آذربائیجان آرمینیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس وزیراعظم شہباز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آرمینیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس وزیراعظم شہباز شریف شہباز شریف کہا کہ
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔