حکومت کے چینی کی برآمد کرنے کی اجازت کے فیصلے سے بحران پیدا ہوا، کمپیٹیشن کمیشن نے رپورٹ پیش کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 11 August, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)کمپٹیشن کمیشن نے وزیر خزانہ کو رپورٹ پیش کردی جس میں کہا ہے کہ شوگر سیکٹر نے حکومت کو چینی کی پروڈکشن سے متعلق غلط اعداد و شمار فراہم کیے اور حکومت نے ایکسپورٹ کی اجازت دی جس کی وجہ سے بحران پیدا ہوا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمپٹیشن کمیشن سے شوگر سیکٹر کے مسائل پر بریفنگ حاصل کی، چئیرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر سدھو نے چینی کارٹل کے کمیشن کے اقدامات سے انہیں آگاہ کیا۔ڈاکٹر کبیر نے وزیر خزانہ کو چینی کے حالیہ بحران کی وجوہات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ چینی کی ایکسپورٹ سے ملک میں چینی کے اسٹاک ضرورت سے کم ہوگئے، شوگر ایڈوائزی بورڈ نے گزشتہ سال جون سے اکتوبر کے دوران گنے کی پیداوار، دستیاب اسٹاک اور چینی کی پروڈکشن کے بارے میں جو تخمینہ حکومت کو فراہم کیے وہ درست نہیں تھے۔
کمپیٹیشن کمیشن نے بتایا کہ غلط تخمینوں کی بنیاد پر حکومت نے ایکسپورٹ کی اجازت دے دی جس سے اسٹاک کم ہوگئے، فیصلہ سازی شوگر ملز ایسوسی ایشن کے فراہم کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے، فیصلہ سازی کے لیے انڈیپینڈنٹ اور شفاف ڈیٹا حاصل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کمپٹیشن کمیشن شوگر سیکٹر ریفارم کمیٹی کی معاونت کے لئے تجاویز تیار کر رہا ہے، وزیر خزانہ کو 2008-09، 2015-16، اور 2019-20 کے چینی بحران کی وجوہات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
کمپٹیشن کمیشن نے بتایا گیا کہ ماضی کے تمام چینی بحران میں بھی چینی کی ایکسپورٹ کر کے لئے سپلائی محدود کی گئی، شوگر سیکٹر کارٹل کے خلاف 2010 ، 2021 میں آرڈر پاس کیے گئے، 2009-10 کی شوگر انکوائری میں کارٹلائزیشن کے واضح ثبوت سامنے آئے تھے لیکن 2010 کا شوگر کارٹل کے خلاف فیصلہ آج تک منظر عام پر نہیں لایا جا سکا۔کمپٹیشن کمیشن نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2021 تک اسٹے دیے رکھا اور اب معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، کمپٹیشن ٹربیوںل نے 2021 کا فیصلہ دوبارہ سماعت کے لئے کمیشن کو بھجوا دیا ہے، کیس کی سماعت مقرر کی گئی لیکن تمام ملوں نے التوا کی درخواستیں دائر کردیں۔
کمپٹیشن کمیشن نے وزیر خزانہ کو شوگر کارٹل کی ری ہیئرنگ پر کمیشن کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی جلد سماعت کے لئے کمپٹیشن کمیشن کی معاونت کرے گی، کمپٹیشن کمیشن کو مزید مستحکم کیا جائے گا، شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کر دیا جائے گا، سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے بعد کمیٹیشن کمیشن کا کردار بڑھ جائے گا، تحقیقات میں معاونت کے لئے دیگر اداروں سے ڈیٹا کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس میں کمیشن کے رجسٹرار شہزاد حسین، لیگل ایڈوائزر حافظ نعیم، ڈائریکٹر کارٹل سلمان ظفر، وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد اور دیگر شریک تھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کے گھر کی نیلامی کی خبریں بے بنیاد ہیں، نیب ذرائع عمران خان کے گھر کی نیلامی کی خبریں بے بنیاد ہیں، نیب ذرائع وزارت صنعت نے چینی کا استعمال کم کرنے کیلئے زیادہ ٹیکسز کی تجویز دیدی غیر رجسٹرڈ عازمین حج سے درخواستوں کی وصولی کا دوسرا مرحلہ شروع قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ڈی نوٹیفائی کرنیکا معاملہ، عمر ایوب، شبلی فراز کا پشاور ہائیکورٹ سے رجوع باجوڑ میں دہشتگردوں کیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن کا آغاز، کئی علاقوں میں کرفیو نافذ نومئی مقدمات، شاہ محمود قریشی بری، یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری کو 10،10سال قید کی سزا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کی اجازت چینی کی

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔

محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔

مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔

حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن