سندھ حکومت اور کیمبرج کے درمیان سرکاری اسکولوں میں او اور اے لیول متعارف کروانے پر مشاورت
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ سے پاکستان میں کیمبرج اسیسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن (CAIE) کی کنٹری ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف نے وفد کے ساتھ ملاقات کی۔
اس موقع پر سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی سمیت دیگر افسران بھی شریک تھے۔ ملاقات میں سندھ کے تعلیمی ڈھانچے میں بہتری، خصوصاً کریکولم ڈیولپمنٹ، اساتذہ کی تربیت (ٹیچرز ٹریننگ)، فاؤنڈیشنل لرننگ اور اسسمنٹ ریفارمز جیسے شعبوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس مقصد کے لیے ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا گیا جو مستقبل میں عملی اقدامات اور سفارشات تیار کرے گا۔
وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ کے سرکاری اسکولوں میں کیمبرج انٹرنیشنل ایگزامینیشنز متعارف کروانے کے لیے سنجیدہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے صوبہ کے ہر ضلع کے کم از کم ایک سرکاری اسکول میں او لیول اور اے لیول سطح کے مضامین شروع کیے جائیں گے تاکہ اسکولز کا معیار بہتر کرنے کے ساتھ پسماندہ طبقات کے طلبہ کو جدید اور عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی آسان بنائی جائے۔
انہوں نے کہا ہم نہیں چاہتے کہ صلاحیتوں والے بچے صرف وسائل کی کمی کے باعث آگے نہ بڑھ سکیں۔ اس لیے حکومت ان کی مدد کرے گی تاکہ وہ امتحان کی تیاری اور رجسٹریشن کے اخراجات برداشت کر سکیں۔
اس موقع پر کیمبرج کی کنٹری ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم پہلو اساتذہ کی تربیت ہے۔ ان کے مطابق او لیول پروگرام شروع کرنے کے لیے ارلی چائلڈ ایجوکیشن سے لے کر آٹھویں جماعت تک کئی اصلاحات کی ضرورت کرنی ہوگی تا کہ بچے اس نظام کے لیے ذہنی اور تعلیمی طور پر تیار ہو سکیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کیمبرج انٹرنیشنل ایگزامینیشنز سندھ حکومت کو ہر ممکن تعاون اور مشاورت فراہم کرے گا، تاکہ صوبے کے طلبہ عالمی معیار کی تعلیم کے ثمرات حاصل کر سکیں۔
انہوں نے اساتذہ کی تربیت کو سب اہم سسٹینیبل گول سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دیرپا نتائج ملتے ہیں۔ ملاقات میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔