سندھ کا کیا حال ہے، بات نہیں کرنا چاہتی، بینظیرانکم سپورٹ کے 10ہزار سے متاثرین کا کچھ نہیں بنے گا، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
سندھ کا کیا حال ہے، بات نہیں کرنا چاہتی، بینظیرانکم سپورٹ کے 10ہزار سے متاثرین کا کچھ نہیں بنے گا، مریم نواز WhatsAppFacebookTwitter 0 25 September, 2025 سب نیوز
ڈیرہ غازی خان (سب نیوز )وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بلاول بھٹو زرداری کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک باعزت شخص کہہ رہا ہے کہ حکومت دنیا سے اپیل کیوں نہیں کرتی کہ اللہ کا واسطہ ہمیں پیسے دے دو، مگر ان کو کہنا چاہتی ہوں یہ مشورے اپنے پاس رکھیں اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 10 ہزار روپے سے سیلاب متاثرین کا کچھ نہیں بنے گا۔ڈیرہ غازی خان میں الیکٹرک بس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب میں تاریخ کا بدترین سیلاب آیا، 4 ماہ سے مسلسل بارشیں ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہماری اتحادی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے، انہوں نے پنجاب میں سیلاب کے معاملے پر سیاست کی، صدر آصف زرداری میرے بڑے اور بلاول میرے چھوٹے بھائی ہیں، سندھ میں کوئی آفت آتی ہے تو پنجاب ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، سندھ کا کیا حال ہے، ابھی اس پر بات نہیں کرنا چاہتی۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سیلاب آیا ہے تو بات ہورہی ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے امداد دی جائے، سیلاب متاثرین کے لیے بی آئی ایس پی کے 10ہزار روپے سے کچھ نہیں بنے گا، مریم نواز نے سیلاب متاثرین کو 10 ہزار روپے نہیں دینے بلکہ ان کو 10 لاکھ روپے دینا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ روز مفت مشورے آرہے ہیں کہ دنیا سے امداد کیوں نہیں مانگ رہے، کیوں دنیا کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا رہے، میں نواز شریف کی بیٹی ہوں، امداد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلاں گی، کوئی خود دار شخص کیسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلاسکتا ہے، ہم کب تک دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت ہی آسان حل نکالا ہے کہ بینظیم انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے لوگوں کو 5،5 یا 10،10 ہزار روپے دے دو، جس کا لاکھوں کا نقصان ہوگیا جن کے گھر گرگئے، جن کی فصلیں تباہ ہوگئیں ان کا اس 10 ہزار سے کیا ہوگا، میں سب کے گھر تعمیر کرنا چاہتی ہوں۔
وزیراعلی پنجاب نے بلاول بھٹو زرداری کا نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں، پنجاب خود معاملات سنبھال لے گا، ہمیں جو این ایف سی سے اربوں، کھربوں روپے ملتے ہیں، وہ کس لیے ہیں اگر صوبوں نے وہ پیسے عوام پر خرچ نہیں کرنے تو وہ کیا صرف بینک میں رکھنے کے لیے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ بار بار جنوبی پنجاب کی بات کرکے لکیر کھینچنے کی کوشش کی جاتی ہے، جنوبی پنجاب کی لکیر کھینچنے والے ہم میں سے نہیں، ماضی میں جنوبی پنجاب کے علاقے صرف وعدوں پر گزارا کرتے تھے، مگر ہم جنوبی پنجاب میں عملی کام کررہے ہیں، پنجاب کے تمام شہروں کو یکساں ترقی کے موقع فراہم کیے جارہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا کپ: پاکستانی بیٹنگ لائن اپ ڈھیر، بنگلادیش کو جیت کیلئے 136 رنز کا ہدف ایشیا کپ: پاکستانی بیٹنگ لائن اپ ڈھیر، بنگلادیش کو جیت کیلئے 136 رنز کا ہدف یورپی ملک سلووینیا نے اسرائیلی وزیر اعظم پر سفری پابندی عائد کردی ثابت کریں کہ بین الاقوامی قانون محض ایک فسانہ نہیں ہے؛ یمنی صدر کا اقوام متحدہ سے مطالبہ کارگل جنگ میں بھی کھلاڑی ہاتھ ملا رہے تھے تو اب ایسا کیوں ہے؟ سابق بھارتی وزیربھی بول پڑے ایشیا کپ: بنگلادیش کا پاکستان کیخلاف اہم میچ میں ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ موجوہ نظام کو ہائبرڈ یا ون پیج سے منسوب کرنا غلط ہے: رانا ثنا اللہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کچھ نہیں بنے گا کرنا چاہتی مریم نواز ہزار روپے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔