اسٹار ٹینس پلئیرز کا گرینڈ سلم ٹینس ٹورنامنٹ کی انعامی رقم بڑھانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اسٹار ٹینس پلئیرز نے گرینڈ سلم ٹینس ٹورنامنٹ کی انعامی رقم بڑھانے کا مطالبہ کردیا۔
ٹاپ 10 ٹینس پلئیرز نے 4 گرینڈ سلم ٹینس کے منتظمین کو دوسری مرتبہ خط لکھا ہے، یہ مطالبہ کرنے والوں میں ارینا سبالنکا، یانک سنر، کوکو گوف اور کارلوس الکاریز شامل ہیں۔
ٹینس پلئیرز نے پنشن، صحت اور ولادت سے متعلق مراعات کی رقم میں مزید اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ ریونیو 16 سے 22 فیصد بڑھا کر پرائز منی شئیر میں اضافے کا کہا ہے۔
کھلاڑیوں نے 2030 تک اسی شئیر کے ساتھ اضافے کا مطالبہ کیا ہے، یہ مطالبہ مان لیا گیا تو آسٹریلین اوپن کا پرائز پول 100 ملین ڈالرز اور یو ایس اوپن کا پول 150 ملین ڈالرز سے بڑھ جائے گا۔
یاد رہے کہ چاروں گرینڈ سلم ٹینس ٹورنامنٹس کا مشترکہ پرائز پول 2025 میں 440 ملین ڈالرز تھا جبکہ مطالبے کی منظوری کے بعد 2030 تک پرائز پول 500 ملین ڈالرز سے بڑھ جائے گا۔
علاوہ ازیں کھلاڑیوں کی کنسلٹنٹ اور اسٹیک ہولڈر کے ساتھ اس حوالے سے ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق یو ایس ٹینس ایسوسی ایشن نے کھلاڑیوں کے خط کا تفصیلی جواب دے دیا ہے۔
یو ایس ٹی اے کا کہنا ہے کہ انعامی رقم بڑھانے کے خواہشمند رہے ہیں، 5 برسوں میں پول میں 57 فیصد اضافہ ہوچکا ہے، رواں برس بھی یو ایس اوپن کی انعامی رقم میں اضافہ کیا گیا تھا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گرینڈ سلم ٹینس ٹینس پلئیرز ملین ڈالرز کا مطالبہ یو ایس
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔