پاکستان کا 135 رنز کا مجموعہ ناکافی تھا، جبکہ بنگلہ دیش کا کھیل بھی ایک کلب ٹیم جیسا نظر آیا۔سرفراز نواز
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
مدینہ منورہ (نمائندہ نوائے وقت) سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز نے لندن سے مسلم لیگ ن سعودی عرب کے رہنما جاوید اقبال بٹ سے ٹیلیفونک گفتگو میں کرکٹ ٹورنامنٹ اور پاکستان بنگلہ دیش میچ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا 135 رنز کا مجموعہ ناکافی تھا، جبکہ بنگلہ دیش کا کھیل بھی ایک کلب ٹیم جیسا نظر آیا۔ انہوں نے پاکستان ٹیم کے حوالے سے کہا کہ اس مرتبہ ٹیم میں کوئی واضح کمبینیشن نہیں بن سکا اور کپتان کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی۔ پاک بھارت ممکنہ فائنل پر گفتگو کرتے ہوئے سرفراز نواز کا کہنا تھا کہ کاغذی طور پر بھارت مضبوط ٹیم ہے، مگر اگر پاکستانی بیٹنگ لائن میں کھلاڑیوں کی ترتیب اور حکمت عملی درست ہو، دو جوڑیوں کی شاندار بیٹنگ اور بولنگ میں جلد وکٹیں حاصل کر لی جائیں، تو پاکستان جیت کے قریب جا سکتا ہے۔ سرفراز نواز نے کہا کہ جب پاکستانی ٹیم کسی ٹورنامنٹ میں لڑکھڑاتے ہوئے بھی فائنل تک پہنچتی ہے، تو ان میں ایک غیر محسوس قوت آ جاتی ہے، جو فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان فائنل جیتنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سرفراز نواز
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔